Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

قانون کا ماخذ، مملکت کارئیس اور اجتماع کا مرکز ہوتا ہے، ان کے نزدیک بالکل ہی ایک دوسری حیثیت رکھتا تھا اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ یا تو اللہ کے بجائے صرف انسانوں ہی کورب مانتے تھے یا نظری طور پر اللہ کے رب ماننے کے باوجود عملاً انسانوں کی اخلاقی و تمدنی اور سیاسی ربوبیت کے آگے سر اطاعت خم کیے رہتے تھے۔ اسی گمراہی کو دور کرنے کے لیے ابتدا سے انبیاء علیہم السلام آتے رہے ہیں اور اسی کے لیے آخر کار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی۔ ان سب کی دعوت یہ تھی کہ ان تمام مفہومات کے اعتبار سے رب ایک ہی ہے اور وہ اللہ جل شانہ ہے۔ ربوبیت ناقابل تقسیم ہے، اس کا کوئی جزء کسی معنی میں بھی کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہے۔ کائنات کا نظام ایک کامل مرکزی نظام ہے جس کو ایک ہی خدا نے پیدا کیا، جس پر ایک ہی خدا فرماں روائی کر رہا ہے جس کے سارے اختیارات واقتدارات کا مالک ایک ہی خدا ہے نہ اس نظام کے پیدا کرنے میں کسی دوسرے کا کچھ دخل ہے، نہ اس کی تدبیر وانتظام میں کوئی شریک ہے، اور نہ اس کی فرماں روائی میں کوئی حصہ دار ہے۔ مرکزی اقتدار کا مالک ہونے کی حیثیت سے وہی اکیلا خدا تمہارا فوق الفطری رب بھی ہے اور اخلاقی و تمدنی اور سیاسی رب بھی۔ وہی تمہارا معبود ہے۔ وہی تمہارے سجدوں اور رکوعوں کا مرجع ہے۔ وہی تمہاری دعاؤں کا ملجا و ماویٰ ہے، وہی تمہارے توکل واعتماد کا سہارا ہے، وہی تمہاری ضرورتوں کا کفیل ہے، اور اسی طرح وہی بادشاہ ہے، وہی مالک الملک ہے، وہی شارع و قانون ساز اور وہی امر و نہی کا مختار بھی ہے، ربوبیت کی یہ دونوں حیثیتیں، جن کو جاہلیت کی وجہ سے تم نے ایک دوسرے سے الگ کیا ہے حقیقت میں خدائی کا لازمہ اور خدا کے خدا ہونے کا خاصہ ہیں۔ انھیں نہ ایک دوسرے سے منفك کیا جاسکتا ہے، اور نہ ان میں سے کسی حیثیت میں بھی مخلوقات کو خدا کا شریک ٹھہرانا درست ہے۔ (صفحات 63-64)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page