Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں ربوبیت کے ناقابل تقسیم ہونے کی بات جو کہی گئی ہے وہ بجائے خود صحیح ہے۔ مگر اس کی تشریح میں وہی غلطی کی گئی ہے، جو اس سے پہلے ہم الہٰ کی بحث میں دیکھ چکے ہیں۔ قرآن میں ربوبیت کا ناقابل تقسیم ہونا اصلاً جس حیثیت سے بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کا پروردگار صرف ایک ہے۔ پروردگاری کے اس کام میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ وہ ان معنوں میں نہیں ہے کہ "فوق الفطری ربوبیت" اور "تمدنی وسیاسی ربوبیت" دونوں ایک وحدت کے اجزاء ہیں جنھیں تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ مثال کے طور پر ایک آیت لیجئے، جس کا اس کتاب کے اندر اس ضمن میں حوالہ دیا گیا ہے: (صفحہ 66) وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ .... يُوْلِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِيْ لِأَجَلٍ مُسَمًّى ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ وَالَّذِينَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا يَسْمَعُوْا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ (35:11-14)۔ یعنی، اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا..... وہ رات کو دن میں پرو دیتا ہے اور دن کو رات میں، اس نے چاند اور سورج کو ایسے ضابطہ کا پابند بنایا ہے کہ ہر ایک اپنے مقررہ وقت تک چلا جا رہا ہے۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے بادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے سوا جن دوسری ہستیوں کو تم پکارتے ہو اُن کے ہاتھ میں ایک ذرہ کا اختیار بھی نہیں ہے، تم پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے، اور سُن بھی لیں تو تمہاری درخواست کا جواب دینا ان کے بس میں نہیں۔ تم جو انھیں شریک خدا بناتے ہو اس کی تردید وہ خود قیامت کے دن کریں گے۔ اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ خدا کو چھوڑ کر تم جن معبودوں کو پکارتے ہو وہ ذرہ برابر طاقت نہیں رکھتے۔ حتیٰ کہ وہ تمہاری "پکار" کوسن بھی نہیں سکتے۔ اس لیے تم اپنا رب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page