Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو بناؤ جس کی قوت اور تسخیر کا مظاہرہ رات دن ہوتا رہتا ہے۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ یہاں جس ربوبیت کے ناقابل تقسیم ہونے کا ذکر ہے وہ فوق الفطری ربوبیت ہے۔ یہاں ان ہستیوں کے مقابلے میں اللہ کے رب حقیقی ہونے کا اعلان ہے جن کو انسان عالم اسباب پر متصرف سمجھ کر اپنی حاجتوں کے لیے انھیں پکارتا ہے ۔ اس لیے ظاہر ہے کہ اثبات میں بھی اسی نوعیت کی ربوبیت ماننی ہوگی جس نوعیت کی ربوبیت کی نفی کی گئی ہے یہاں میں تفسیر کے دو حوالے نقل کروں گا جس سے اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے: وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ “ ويكون ذلك مقرراً لما قبله مِن التَّفَرُّد بالإلهيَّة والرُّبوبيَّة، واستدلالا عليه، إذ حاصله جميع الملك والتَّصرُّف في المبدإ والمنتهى لَهُ تعالى، وليس لغيرِهِ سبحانه منه شيء“ (تفسیر روح المعانی، جلد 11، صفحہ (354) ۔ یعنی، ”اس کے سوا جن دوسری ہستیوں کو تم پکارتے ہو اُن کے ہاتھ میں ایک ذرہ کا اختیار بھی نہیں ہے“ یہ فقرہ اللہ کے الہ واحد ہونے اور ربوبیت اس کے لیے خاص ہونے کے لیے پچھلے جملہ کی تقریر اور اس کی دلیل ہے، کیوں کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ اقتدار اور تصرف تمام کا تمام شروع سے آخر تک اسی کے لیے ہے اور اس میں خدا کے سوا کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ یہ فقرہ اللہ کے الہ واحد ہونے اور ربوبیت اس کے لیے خاص ہونے کے لیے پچھلے جملہ کی تقریر اور اس کی دلیل ہے، کیوں کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ اقتدار اور تصرف تمام کا تمام شروع سے آخر تک اسی کے لیے ہے اور اس میں خدا کے سوا کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ وَالإشارة بقولِهِ : ذَلِكُمُ إلَى الفَاعِلِ لِهَذِهِ الأَفْعَالِ وَهُوَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ، واسم الإشارة: مبتدأ، وَخَبَرُهُ : اللهُ رَبُّكُمُ لَهُ المُلْكُ أَيْ: هَذَا الَّذِي مِنْ صَنْعَتِهِ مَا تَقَدَّمَ : هُوَ الخَالِقُ المُقَدِّرُ، وَالقَادِرُ المُقْتَدِرُ المَالِكُ لِلْعَالَمِ، وَالْمُتَصَرِّفُ فِيهِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ: لَهُ المُلكُ جُمْلَةً مُسْتَقِلَّةً فِي مُقَابَلَةِ قَوْلِهِ : وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page