Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 214

By Maulana Wahiduddin Khan

دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ اَی: لا یَقْدِرُونَ عَلَيْهِ وَلا عَلَى خَلْقِهِ (فتح القدير للشوکانی، جلد 4، صفحہ 394-393)۔ یعنی، ذالکَم کا اشارہ مذکورہ بالا افعال کے فاعل کی طرف ہے جو کہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اور ذالکَم ترکیب میں مبتدا ہے اور اس کی خبر ہے اللہ ربکم لہ الملک۔ یعنی یہ خدا جس کی تمام صنعتیں ہیں، وہی خالق ہے، مقدر ہے، قادر ہے، مقتدر ہے، عالم کا مالک ہے اور سب پر اسی کا تصرف ہے۔ اور دوسری ترکیب یہ ہو سکتی ہے کہ لہ الملک اگلے فقرے کے مقابلے میں مستقل جملہ ہو۔ ایسی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ خدا کے سوا جن کو تم پکارتے ہو، وہ موجودات پر یا ان کی تخلیق پر کوئی قدرت نہیں رکھتے۔ زیر بحث کتاب کے مذکورہ طویل اقتباس میں قدیم ترین زمانہ سے لے کر زمانہ نزول قرآن تک گمراہ قوموں کی جس اصل اور مشترک گمراہی کا ذکر ہے، اس کو ثابت کرنے کے لیے کتاب میں ”ربوبیت کے باب میں گمراہ قوموں کے تخیلات“ کے عنوان کے تحت نہایت تفصیل کے ساتھ ان کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ سب کی سب ربوبیت کے بارے میں مذکورہ بالا دو قسم کی گمراہی میں مبتلا تھیں۔ ایک فوق الفطری ربوبیت میں دوسروں کو شریک کرنا۔ دوسرے، اخلاقی و تمدنی و سیاسی ربوبیت، دوسروں کو دینا۔ مگر اس لمبی بحث کے باوجود جو کچھ ثابت ہوا وہ صرف ربوبیت کا پہلا مفہوم ہے۔ ربوبیت کا دوسرا مفہوم کسی آیت سے نہیں نکلتا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بیشتر ایسی آیتوں سے استدلال کیا گیا ہے، جن میں لفظ ”رب“ سرے سے موجود ہی نہیں۔ مثلاً قوم نوح کے سلسلے میں یہ آیت نقل کی گئی ہے: اِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (26:107-108)۔ یعنی، میں تمہارے لیے رسول امین ہوں پس خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ کتاب کی تشریح کے مطابق اس آیت میں اخلاق، معاشرت، تمدن، سیاست اور تمام معاملات زندگی میں خدا کو رب یعنی حاكم اور مقتدر اعلیٰ قرار دینے کا ذکر ہے۔ مگر قطع نظر اس کے کہ یہاں یہ بات نہیں کہی گئی ہے، جس فقرے میں سرے سے رب کا لفظ ہی موجود نہ ہو اس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page