Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

ربوبیت کے کسی مفہوم پر کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے۔ بعض قوموں کے سلسلے میں ایسی آیات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں رب کا لفظ موجود ہے۔ مگر ان سے مصنف کا مدعا ثابت نہ ہو سکا۔ کیوں کہ ان آیات میں رب کا لفظ ”سیاسی اور تمدنی ربوبیت“ کے معنی میں نہیں ہے۔ مثلاً قوم عاد کی گمراہیوں کے سلسلے میں حسب ذیل آیت پیش کی گئی ہے: وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ (11:59)۔ اس کے بعد آیت میں حسب ذیل فقرہ ہے: وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ (11:59)۔ یعنی، اور اس کے رسولوں کو نہ مانا اور ہر جبار دشمن حق کی پیروی کی۔ اس فقرہ میں بھی جبابرہ کے اتباع سے مراد یہ نہیں ہے کہ انھوں نے ”سیاسی اور تمدنی معاملات میں ان کی اطاعت کی۔“ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آیات الہی کے ذریعہ رسول کے منجانب اللہ ہونے کی جو تصدیق مل رہی تھی، اس سے انھوں نے ہدایت نہیں پکڑی۔ بلکہ وقت کے سرکش لیڈروں کا ساتھ دیتے ہوئے اس کا انکار کیا جو رسول کی رسالت کو جھٹلا رہے تھے۔ اس فقرے کا ترجمہ کتاب ”قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں“ میں کیا گیا ہے—”اور یہ عاد ہیں جنھوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کر دیا۔“ (صفحہ 35) آیت کا لفظ ”حکم“ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مگر ”آیت“ کے اصل معنی نشانی کے ہیں اور یہاں یہی مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رسول کو پہچاننے کے لیے انھیں جو نشانیاں دی گئی تھیں ۔ اس سے انھوں نے بصیرت حاصل نہیں کی اور اس کی تکذیب کی۔ یہاں ”سیاسی اور تمدنی ربوبیت“ کا کوئی ذکر نہیں۔ علامہ آلوسی بغدادی لکھتے ہیں: ”جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ “ أى كفروا بآياتِ رَبِّهِمُ الَّتِي أَيَّدَ بِهَا رَسُولَهُ الدَّاعِيَ إليه، ودلَّ بها على صدقه، وأنكروها، فقالوا: يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ (روح المعانی، جلد 6، صفحہ 284)۔ یعنی، ”آیات کا انکار کیا۔“—یعنی ان نشانیوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page