الٰہ
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
کا انکار کیا جوان کے رسول کو رسالت کی پہچان کے لیے دی گئی تھیں۔ اور اس بات پر دلالت کرتی تھیں کہ رسول اپنے دعوے میں سچا ہے۔ مگر اتنی بات سے اس ذہن کو تسکین نہیں ہوسکتی۔ کیوں کہ وہ تو اقتدار اور حکمرانی کے معاملہ کو متعدد مفہومات میں سے صرف ایک مفہوم نہیں بلکہ اسی کو اصل مفہوم قرار دینا چاہتا ہے۔ چنانچہ یہ بحث اپنے آخری نتیجے تک پہنچتے پہنچتے ایک اور موڑ مڑ گئی۔ بحث کے آخر میں قرآن کی دعوت“ کے عنوان سے بہت سی آیتیں نقل کرنے کے بعد آخر میں لکھتے ہیں: ”ان آیات کے سلسلے سے صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن ربوبیت کو بالکل حاکمیت اور سلطانی (sovereignty) کا ہم معنی قرار دیتا ہے اور رب کا یہ تصور ہمارے سامنے پیش کرتا ہے کہ وہ کائنات کا سلطان مطلق اور لاشریک مالک و حاکم ہے۔ اسی حیثیت سے وہ ہمارا اور تمام جہان کا پروردگار، مربی اور حاجت روا ہے، اسی حیثیت سے وہ ہمارا کفیل، خبر گيراں، مختار کار، اور معتمد علیہ ہے، اسی حیثیت سے اس کی وفاداری وہ قدرتی بنیاد ہے جس پر ہماری اجتماعی زندگی کی عمارت صحیح طور پر قائم ہوتی ہے اور اس کی مرکزی شخصیت سے وابستگی تمام متفرق افراد اور گروہوں کے درمیان ایک امت کا رشتہ پیدا کرتی ہے، اسی حیثیت سے وہ ہماری اور تمام مخلوقات کی بندگی ، اطاعت اور پرستش کا مستحق ہے، اسی حیثیت سے وہ ہمارا اور ہر چیز کا مالک، آقا اور فرمانروا ہے“۔ (صفحات 69-68) گویا رب کا لفظ اپنی پہلی تشریح کے مطابق یہ معنی رکھتا تھا کہ اس کا اصل مفہوم پرورش ہے مگر پرورش کے تقاضے کے تحت اس میں کئی اور مفہومات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ جو پرورش کرے وہ بالاتر اقتدار کا حامل ہو۔ کیوں کہ پرورش کے لیے زمین و آسمان میں جس تصرف کی ضرورت ہے وہ اس کے بغیر نہیں ہوسکتا، نیز جس کی پرورش کی جائے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پروردگار کی فرماں برداری کرے۔ کیوں کہ ایسا نہ کرنا انتہائی ناشکری اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader