Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

نمک حرامی ہے۔ مگر آخری تشریح کے مطابق بات یہ بن گئی کہ رب کا لفظ حاکم اور سلطان کے ہم معنی ہے۔ اور حاکمیت اور سلطانی کا تقاضا ہے کہ وہی مربی ہو، وہی مختار کار ہو، اسی کی وفاداری کی جائے، اسی کی پرستش ہو، وہی ہمارا مالک و آقا قرار پائے۔ اس طرح بات بالکل الٹ گئی۔ پہلی صورت میں پرورش کے تقاضے کے تحت دیگر مفہومات نکل رہے تھے۔ اور آخری صورت میں اقتدار کے تقاضے کے تحت تمام مفہومات نکلنے لگے۔ رب کے لفظ کو ” بالکل حاکمیت اور سلطانی کے ہم معنی “ قرار دینے کے لیے کتاب میں سولہ آیتیں نقل کی گئی ہیں ۔ ( صفحات 69-68) ان میں سے کچھ آیتیں ایسی ہیں جن کا حوالہ دوسری اصطلاحات کے سلسلے میں بھی دیا گیا ہے اور وہاں ہم نے ان پر گفتگو کی ہے ۔ یہاں میں ان میں سے چند خاص آیتوں پر گفتگو کروں گا جس سے واضح ہوگا کہ ان حوالوں سے وہ مخصوص انقلابی مفہوم ثابت نہیں ہوتا جو موصوف ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی آیت جو اس سلسلے میں نقل کی گئی ہے، وہ یہ ہے : اِنَّ رَبَّکُمُ اللهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰي عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثًا ۙ وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۢ بِاَمْرِہٖ ۬ ٙ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ ۬ ٙ تَبَارَکَ اللهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (7:54) ۔ یعنی، حقیقت میں تمہارا رب تو اللہ ہے جس نے آسمان وزمین کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ افروز ہوگیا ، جو دن کورات کا لباس اُڑھاتا ہے اور پھر رات کے تعاقب میں دن تیزی کے ساتھ دوڑتا آتا ہے، سورج اور چاند اور تارے سب کے سب جس کے تابع فرمان ہیں ، سنو ، خلق اسی کی ہے اور فرماں روائی بھی اسی کی بڑا بابرکت ہے وہ کائنات کا رب۔ اس آیت میں غالباً ــــــ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ کے فقرے سے یہ سمجھا گیا ہے کہ اس میں ”سیاسی ربوبیت“ کا ذکر ہے۔ یعنی فقرے کا مطلب یہ ہے کہ خلق اس کی ہے تو قانونی اور سیاسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page