Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 218

By Maulana Wahiduddin Khan

حکمرانی بھی لوگوں کے اوپر اسی کی نافذ ہونی چاہیے۔ اس بات کے الگ سے مطلوب ہونے میں مجھے کوئی شبہ نہیں۔ مگر اس جملہ کا مطلب یہ نہیں ہے۔ پوری آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ الا لہ الخلق والامر کے ٹکڑے میں جو بات کہی گئی ہے وہ وہی ہے جو اس سے متصل اوپر کے الفاظ میں کہی گئی تھی۔ خلَق السمٰوات والارض الخ سے ”خلق“ کا ذکر تھا اور اس کے بعد ”مسخرات بایمرہ“ میں ”امر“ کا۔ اسی کو بعد کے فقرے میں اللہ سے مختص کرتے ہوئے فرمایا: الا لہ الخلق والامر۔ یعنی، زمین و آسمان اور اس کی تمام چیزوں کو خدا ہی نے پیدا کیا ہے اور سب پر براہ راست اسی کا کنٹرول ہے۔ اس لیے تم اسی سے ”خوف اور امید“ رکھو اور صرف اسی سے ”دعا“ مانگو (الاعراف، 56-55)۔ یہی مفہوم مفسرین نے لیا ہے۔ میں ایک حوالہ یہاں نقل کروں گا: ”والشمْس والقمر والنّجوم مسخّرات باَمْرِہٖ، اي خلقهنّ حال كونهنّ مسخّرات بقضائه وتصريفه۔ الا له الخلق والأمر، فإنّه الموجد للكلّ والمتصرف فيه على الإطلاق ( تفسير أبي السعود، 3، صفحه 232)۔ یعنی، ”سورج ، چاند ، ستارے، سب اسی کے امر کے تحت مسخر ہیں“۔ یعنی انھیں اس طرح پیدا کیا ہے کہ اسی کا فیصلہ ان کے اوپر نافذ ہوتا ہے، اور وہی انھیں گردش دے رہا ہے۔ ”خلق اسی کی ہے اور امر اسی کا“۔ کیوں کہ وہی سب کو وجود دینے والا ہے اور کلی طور پر اسی کا تصرف سب کے اوپر ہے۔“ ایک اور آیت یہ ہے: فَلِلّهِ الْحَمْدُ رَبّ السَّمَاوَاتِ وَرَبّ الْأَرْضِ رَبّ الْعَالَمِينَ۔ وَلَهُ الْكِبْرِيَاء فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (37-36: 45)۔ یعنی، پس ساری تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین و آسمان اور تمام کائنات کا رب ہے، کبریائی اسی کی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی، اور وہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page