Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

اِس آیت میں غالبًا بِرَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ سے دونوں قسم کی ربوبیتوں کا مفہوم اخذ کیا گیا ہے۔ یعنی اِس کا مطلب یہ سمجھا گیا کہ آسمانوں میں فوق الفطری اقتدار بھی اسی کا ہے اور زمین میں قانونی اور سیاسی اقتدار بھی اسی کا۔ مگر یہ ایک بے دلیل بات ہے۔ کیوں کہ آس پاس اِس مفہوم کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے اور بغیر کسی واضح قرینہ کے محض لفظ ”کبریاء“ سے سیاسی اقتدار کا مفہوم نکالا نہیں جا سکتا۔ کبریاء کے معنی عظمت اور بڑائی کے ہیں اور قرآن میں اِس طرح کے الفاظ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے فوق الفطری اقتدار اور بالاتری کو بتانے کے لیے آتے ہیں اور وہی یہاں بھی مراد ہیں۔ حافظ ابنِ کثیر لکھتے ہیں: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمَاوَاتِ وَرَبِّ الْأَرْضِ أَي: الْمَالِكِ لَهُمَا وَمَا فِيهِمَا؛ وَلِهَذَا قَالَ: رَبِّ الْعَالَمِينَ . ثُمَّ قَالَ: وَلَهُ الْكِبْرِيَاءُ في السموات وَالْأَرْضِ قَالَ مُجَاهِدٌ: يَعْنِي السُّلْطَانَ . أي: هُوَ الْعَظِيمُ الْمُمَجَّدُ ، الَّذِي كُلُّ شَيْءٍ خَاضِعٌ لَدَيْهِ فَقِيرُ إِلَيْهِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 273)۔ ”ساری حمد اللہ ہی کے لیے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے،“ یعنی وہی زمین و آسمان کا اور ان کے درمیان تمام چیزوں کا مالک ہے، اور” اسی کی کبریائی ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔“ اس کی تشریح مجاہد نے یہ کی ہے کہ اسی کا اقتدار ہے یعنی وہی بڑائی اور بزرگی والا ہے جس کے آگے ہر چیز پست ہے اور اس کی محتاج ہے۔ شوکانی لکھتے ہیں: وَلَهُ الْكِبْرِيَاء فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَي: الْجَلَالُ وَالْعَظَمَةُ وَالسُّلْطَانُ، وَخَصَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لِظُهُورِ ذَلِكَ فِيهِمَا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ أَي: الْعَزِيزُ فِي سُلْطَانِهِ . فَلَا يُغَالِبُهُ مُغَالِبٌ الحَكِيمُ فِي كُلِّ أَفْعَالِهِ وَأَقْوَالِهِ وَجَمِيعِ أَقْضِيَتِهِ (فَتْح القدیر للشوکانی، جلد 5، صفحہ 14 )۔ ”زمین و آسمان میں بڑائی اسی کی ہے“۔ یعنی جلال و عظمت اور اقتدار اسی کا ہے۔ اور آسمان و زمین کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page