Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

لے کر ستمبر 1961 ء تک رامپور، دہلی اور اعظم گڑھ میں ہوئیں حتیٰ کہ جولائی 1960 ء میں جب مجلسِ شوریٰ نے مجھے رسالہ زندگی کی ادارت کے لیے نامزد کیا، اور میں نے صرف اس بنیاد پر اس کو قبول کرنے سے معذوری ظاہر کی کہ جماعت کی فکر سے مختلف فکر رکھتے ہوئے میں اپنے لیے اس کو صحیح نہیں سمجھتا تھا کہ جماعت کے آرگن میں ایڈیٹر کی ذمہ داری قبول کر لوں ۔ اس وقت بھی موصوف نے مجھ کو یہی باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ محض تمہارا شدتِ احساس ہے کہ تم کو اپنے خیالات جماعت کی فکر سے مختلف نظر آتے ہیں، حالانکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ ان کا مشورہ تھا کہ میں اس وہم کو اپنے اندر سے نکال دوں اور ”زندگی“ کی ادارت قبول کرلوں۔ اس قسم کے اور بھی بعض افراد ہیں جنہوں نے مجھ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ یہ محض لفظی فرق ہے، ورنہ حقیقتاً دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں۔ دوسرا مرحلہ 3۔ یہ گفتگوئیں اس وقت کی ہیں جب کہ میری تحریر ”تعمیر کی غلطی“ ابھی وجود میں نہیں آئی تھی ۔ اس کے بعد میں نے اپنے خیالات کو قلم بند کر لیا اور تحریری صورت میں لوگوں کے سامنے اسے رکھنا شروع کیا، خیال تھا کہ اس طرح زیادہ بہتر تبصرے مل سکیں گے۔ مگر اب بھی مجھے کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی، جماعتِ اسلامی کے ایک چوٹی کے بزرگ کو جب پہلی بار میں نے اپنی تحریر دی تو انہوں نے یہ کہہ کر اسے واپس کر دیا کہ میں نے اسے ”غور“ سے پڑھ لیا ہے، مگر تبصرہ بعد کو دوبارہ پڑھنے کے بعد کروں گا۔ میں نے اصرار کیا تو یہ مختصر جملہ ارشاد فرمایا: ” مقاصد سے بڑی حد تک اتفاق، مباحث سے بڑی حد تک اختلاف “ یہ 21 اکتوبر 1961 ء کی بات ہے۔ دوسری گفتگو اس کے ڈیڑھ مہینے بعد 12 دسمبر کو ہوئی اور اس کے چھ مہینے بعد ان کے خیالات مزید تفصیل کے ساتھ میرے سامنے آئے، مگر بعد کے اظہار خیال میں انہوں نے صرف اپنے ”اختلاف“ ہی کی تفصیلات پیش کیں، ان کا ”اتفاق“ میرے سامنے نہیں آیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page