Urdu book · تعبیر کی غلطی

الٰہ

Urdu book, p. 220

By Maulana Wahiduddin Khan

ان میں اس کی ان صفات کا ظہور ہوا ہے“۔ وہی عزیز و حکیم“ ہے، یعنی اس کا اقتدار سب سے بڑھ کر ہے اس پر کوئی غالب نہیں آ سکتا۔ وہ اپنے اقوام و افعال اور اپنے تمام فیصلوں میں حکیم ہے۔ ایک آیت یہ ہے: اِنَّ ھٰذِہِ اُمَّتُکُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ ۔ وَتَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ بَيْنَھُمْ کُلٌّ اِلَيْنَا رَاجِعُوْنَ (21:92-93)۔ یعنی حقیقت میں تمھاری یہ امت ایک ہی امت ہے اور میں تمھارا رب ہوں، لہذا تم میری ہی بندگی کرو۔ لوگوں نے اس کار ربوبیت اور اس معاملہ بندگی کو آپس میں خود ہی تقسیم کر لیا ہے مگر ان سب کو بہر حال ہماری طرف ہی پلٹ کر آنا ہے۔ اوپر میں نے آیت کا جو ترجمہ دیا ہے وہ زیر بحث کتاب کا ترجمہ ہے۔ اور اسی ترجمہ میں یہ بات چھپی ہوئی ہے کہ یہ آیت کس طرح مصنف کے نزدیک ربوبیت کے سیاسی مفہوم کی ماخذ بن گئی ہے ۔ ” اس کا ربوبیت کو آپس میں خود ہی تقسیم کر لیا“ کا ترجمہ بتاتا ہے کہ تَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ بَيْنَھُمْ کا مطلب غالباً یہ لیا گیا ہے کہ ربوبیت اپنے تمام فوق الفطری اور سیاسی و تمدنی مفہومات کے ساتھ خدا کے لیے خاص تھی۔ مگر لوگوں نے کچھ خدا کو دیا اور کچھ آپس میں تقسیم کر لیا۔ مگر یہاں اس قسم کے کسی نظریہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تَقَطَّعُوْا اَمْرَھُمْ بَيْنَھُمْ کا ترجمہ یہ ہے کہ ۔ ” انھوں نے ٹکڑے کر لیا اپنے معاملہ کو اپنے درمیان “ امت واحدہ کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہاں جس تقطع کا ذکر ہے وہ اسی امر (امت واحدہ) میں تقطع ہے، نہ کہ کسی اور چیز میں۔ اس آیت سے پہلے ”رجال وحی“ کا ذکر ہے (الانبیاء، 21) اور اس سلسلے میں ایک درجن سے زیادہ انبیاء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ سب ”امت واحد“ ہیں۔ یعنی ایک ایسا گروہ جو بنیادی طور پر ایک دین لے کر آیا اور ایک دین پر قائم رہا۔ مگر اس کے بعد ان کے متبعین نے اس وحدت کو باقی نہیں رکھا۔ ہم نے تو ایک ہی بنیادی دین سب کو دیا تھا۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page