Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں نے خود اختلاف ڈال کر اس کے ٹکڑے کر لیے اور الگ الگ مذہبی فرقے بن کر ایک دوسرے سے لڑنے لگے اور اصل دین کو چھوڑ دیا۔ شوکانی لکھتے ہیں: اِنَّ ہٰذِہِ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّالۡاُمَّۃُ: الدِّینُ کَمَا قال ابن قتیبۃ، ومنہ: اِنَّا وَجَدۡنَا آبَاءَنَا عَلٰی اُمَّۃٍ أَي: عَلٰی دِینٍ، کَأَنَّہُ قَالَ: اِنَّ ہٰذَا دِیْنَکُمْ دِیْنٌ وَّاحِدٌ لَّا خِلَافَ بَيۡنَ الۡاُمَمِ الۡمُخۡتَلِفَۃِ فِي التَّوۡحِیدِ، وَاَنَّا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ خَاصَّۃً لَا تَعۡبُدُوۡا غَيۡرِي کَائِناً مَا کَانَ وَتَقَطَّعُوۡا اَمۡرَہُمۡ بَيۡنَہُمۡ أَي: تَفَرَّقُوۡا فِرَقاً فِي الدِّینِ حَتّٰی صَارَ كَالۡقِطَعِ الۡمُتَفَرَّقَۃِ. وَقَالَ الۡاَخَفْشُ: اِخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ، وَہُوۡ كَالۡقَوۡلِ الۡاَوَّلِ (فتح القدیر للشوکانی، جلد 3، صفحہ 502)۔ یعنی، امت کا لفظ یہاں دین کے معنی میں ہے۔ گویا فرمایا کہ تمہارا یہ دین ایک ہی دین ہے مختلف امتوں کے درمیان توحید میں کوئی اختلاف نہیں’’ میں تمہارا رب ہوں لہٰذا میری ہی عبادت کرو‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کو میرے لیے خالص کر دو اور کسی بھی دوسری چیز کی عبادت نہ کرو۔ (تَقَطَّعُوۡا اَمۡرَہُمۡ بَيۡنَہُم) کے فقرے کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے دین میں فرقے کر ڈالے یہاں تک کہ دین ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ اخفش نے کہا ہے کہ انھوں نے دین میں اختلاف کیا۔ اور یہ پہلے قول کے مطابق ہے۔ اجتماعی تقاضا الٰہ اور رب کی بحث میں اوپر جس قسم کے غیر علمی استدلال کا نمونہ آپ نے دیکھا، اس کی ضرورت مصنف کو صرف اس لیے پیش آئی کہ وہ اسلام کے اجتماعی پہلو کو الٰہ اور رب کی دعوت میں اس کے اصل اور ال دین مفہوم کی حیثیت سے ثابت کرنا چاہتے تھے۔ اور چونکہ واقعہ میں ایسا نہیں ہے اس لیے انھیں کمزور دلائل کا سہارا لینا پڑا۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ اجتماعی مسائل کا اسلامی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page