Urdu book · تعبیر کی غلطی

اجتماعی تقاضا

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے” سیاسی الوہیت “یا” سیاسی ربوبیت “اگرچہ الہ اور رب کے مفہوم میں براہ راست شامل نہیں ہیں ، اور اس لحاظ سے یہ بامعنی ترکیبیں ہیں ، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کو خدا ماننے کا یہ بھی ایک تقاضا ہے کہ اسی کو اپنی زندگی کا رہنما اور اپنا مطاع تسلیم کیا جائے ۔ جو شخص خدا کو زمین و آسمان کا الہ اور رب قرار دے ۔ وہ اپنے اس اقرار میں جھوٹا ہے، اگر وہ عملی زندگی میں خدا سے بغاوت کا رویہ اختیار کرے ۔ خدا کو اپنا معبود اور پروردگار ماننے کا لازمی تقاضا ہے کہ آدمی بالکل اس کے آگے جھک جائے اور اپنے پورے ارادے اور اپنی ساری زندگی کو اس کی مرضی کا تابع کردے ۔ مگر اس بات کو الہ اور رب کے اصل مفہوم کی حیثیت سے ثابت کرنا ، اور اس کو اصل مفہوم کا ایک عملی تقاضا قرار دینا ۔ دونوں میں بڑا فرق ہے ۔ کسی لفظ کا جو اصل اور براہ راست مفہوم ہو وہ مطلقاً ہر حال میں مطلوب ہوتا ہے اس سے کسی طرح مفر نہیں۔ جب کہ تقاضا کسی واسطہ کی نسبت سے مطلوب ہوتا ہے ۔ اس لیے وہ ہر حال میں لازمی نہیں ہوتا۔ اگر واسطہ موجود ہو تو یقیناً مطلوب ہوگا۔ ورنہ سرے سے آدمی کے اوپر اس کی ذمہ داری ہی نہیں ہوگی ۔ اس فرق کو عملی مثال سے زیادہ واضح طور پر سمجھا جاسکتا ہے ۔ جب ایک شخص خدا پر ایمان لائے اور اس کو اپنا الہ اور رب قرار دے تو اس پر لازم ہو جائے گا کہ وہ خدا کو فوق الطبیعی معنوں میں واحد الہ اور رب سمجھے۔ اسی پر سارا بھروسہ کرے، اسی کی بڑائی کا اعتراف کرے ۔ اسی کے احسان مندی کے جذبہ سے سرشار ہو، اور اسی کو اپنے تمام بہترین احساسات کا مرکز بنالے ۔ اس کے بعد تمدنی اور سیاسی میدان میں اس کے ایمان کا تقاضا اتنا ہی ہو گا جتنا وہ بالفعل تمدن وسیاست سے متعلق ہو ۔ اگر وہ کسی سنسان جزیرہ میں تنہا ہو تو اس پر اس قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی ۔ اور اگر آبادی کے اندر ہو تو اس پر اتنی ہی ذمہ داری ہوگی جتنا اپنے حالات کے اعتبار سے وہ شرعاً مکلف ہو ۔ جب کہ الوہیت اور ربوبیت اپنے اصل اور اولین مفہوم میں ہر حال میں اس کے لیے ضروری ہے ، وہ کبھی اس سے ساقط نہیں ہوسکتی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page