تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 223
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر آپ اصل اور اس کے تقاضے کے اس فرق کو ملحوظ نہ رکھیں اور اسلام کی ایسی تشریح کریں جس میں تقاضہ کو اصلی کی جگہ رکھ دیا گیا ہو یا اصل اور تقاضے کو یکساں حیثیت سے پیش کیا گیا ہو۔ تو قدرتی طور پر دونوں آپ کے ذہن میں اپنے اصل مقام سے ہٹ جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ الوہیت اور ربوبیت کا سیاسی تقاضا آپ کے ذہن میں اپنی واقعی حیثیت سے زیادہ مقام حاصل کرلے گا۔ اور اس کا اصل اور اولین مفہوم اپنی واقعی حیثیت سے کم تر درجہ پر چلا جائے گا۔ بلکہ اگر سیاسی فضا یا سیاسی طرز فکر سے شعوری یا غیر شعوری تاثر کی وجہ سے یہ چیز پیدا ہوئی ہو تو عین ممکن ہے کہ ذہن پر بس یہی دوسری چیز چھا جائے اور پہلی چیز اس طرح محض برائے نام رہ جائے جیسے کسی پسندیدہ مصرعہ کو مکمل کرنے کے لیے بعض اوقات ایک بے جان سا لفظی مجموعہ اس کے آگے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔ عبادت تیسری قرآنی اصطلاح جس پر اس کتاب میں گفتگو کی گئی ہے وہ عبادت ہے۔ یہ بحث مندرجہ ذیل الفاظ سے شروع ہوتی ہے: ”عربی زبان میں عبودۃ، عبودیۃ اور عبدِیۃ کے اصل معنی خضوع اور تذلل کے ہیں ۔ یعنی تابع ہو جانا، رام ہو جانا“۔ اوپر کے اقتباس میں عبادت کا ”اصل معنی“ خضوع اور تذلل بتایا گیا ہے۔ اور یہ بالکل صحیح ہے۔ مگر ”یعنی“ کے بعد اس اصل معنی کی تشریح کرتے ہوئے ذہن دوسری سمت میں چلا گیا ۔ ”تابع ہونا“، خضوع اور تذلل کا اصل مفہوم نہیں، بلکہ وہ اس کا ایک تقاضا اور نتیجہ ہے۔ خضوع اور تذلل (انسان کے اعتبار سے) قلبی جھکاؤ اور اندرونی احساس عجز کا نام ہے۔ یہی عبادت کی اصل ہے۔ پرستش یا مراسم عبودیت اسی حقیقت عبادت کے لازمی مظاہر ہیں جن کی تعیین خود معبود نے کر دی ہے۔ جب یہ کیفیت کسی کے اندر پیدا ہو جاتی ہے تو اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے معبود کا تابع فرمان بن جاتا ہے۔ وہ اس کی اطاعت کرنے لگتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader