عبادت
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے : الدُّعَاءُ هُوَ العِبَادَةُ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3527)، یعنی، دعا ہی عبادت ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عبادت تمام کی تمام بس دعاہی میں منحصر ہے۔ دعا کے بعد عابد کو کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں یہ ارشادِ نبوت دراصل حقیقتِ عبادت کا اظہار ہے۔ یعنی عبادت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اس کا نام ہے کہ بندہ خدا کی طرف مشتاق ہو، وہ اس کو پکارے، وہ اس کے سامنے بالکل عاجز و درماندہ کی طرح متوجہ ہو، وہ ہمہ تن اللہ کی طرف مائل ہو گیا ہو۔ یہی عبادت کی روح اور اس کی اصل حقیقت ہے۔ مگر جس طرح ہر حقیقت کے بہت سے ایسے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی مختلف حیثیت اور دنیا میں اس کے تعلقات و حالات کی نسبت سے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح حقیقتِ عبادت بھی خارج میں اپنے بہت سے مظاہر رکھتی ہے اور اس اعتبار سے سارا نظامِ اطاعت اس کی فہرست میں آ جاتا ہے۔ خدا کی عبادت کا لازمی تقاضا ہے کہ جن معاملات سے اہلِ ایمان کا سابقہ پیش آئے ، ان میں خدا کی اطاعت کی جائے ۔ خدا سے عبادتی تعلق ، لازمی طور پر اس سے اطاعتی تعلق کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جس عبادت کے ساتھ عملی معاملات میں سرکشی اور بغاوت پائی جائے، وہ عبادت حقیقتاً عبادت نہیں ۔ علامہ آلوسی کے الفاظ میں : ” وَلَا يَخْفَى أَنَّ تَخْصِيْصَ العِبَادَةِ بِہ تعالیٰ لَا يَتَحَقَّقُ إِلَّا بِتَخْصِيْصِ الطَّاعَةِ أَيْضًا بِہ تعالیٰ، ومتی لم تُخصَّ بہ جلَّ شأنہُ، لم تُخصَّ العبادۃُ بہ سبحانہ“ (تفسیر روح المعانی ، جلد 5، صفحہ (276) ۔ یہ واضح ہے کہ عبادت کو اللہ کے لیے خالص کرنا اس وقت تک متحقق نہیں ہوتا جب تک اطاعت کو بھی اللہ کے لیے خاص نہ کر دیا جائے، جب تک اطاعتِ خدا کے لیے خاص نہ کی جائے اس وقت تک گو یا عبادت بھی خدا کے لیے خاص نہیں ہوتی۔ مگر زیرِ بحث تعبیر کے خانے میں عبادت کا یہ تصور ٹھیک سے بیٹھ نہیں رہا تھا۔ کیوں کہ یہ تعبیر دین کو اس نظر سے دیکھتی ہے کہ وہ ایک ”نظام“ ہے جس کو زندگی کے تمام شعبوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader