Urdu book · تعبیر کی غلطی

عبادت

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

رائج کرنا ہے۔ جب کہ خضوع اور تذلل کو عبادت کا اصل مفہوم قرار دینا اس کو فرد کا ایک معاملہ قرار دینا ہے۔ اس اعتبار سے عبادت اصلاً دل کے جھکاؤ اور میلان کا نام ہے۔ نظامی مظاہر اس میں براہ راست شامل نہیں ہیں بلکہ تقاضے اور حالات کے مطابق وہ اس کا جزو بنتے ہیں۔ اس لیے اس تعبیر کے ذہن میں عبادت کی تصویر بالکل الٹ گئی۔ جو کچھ اصل تھا وہ محض ایک تقاضا بن گیا اور جو اس میں تقاضے کے طور پر شامل ہوا تھا، وہ اصل قرار پایا۔ لغت سے عبادت کے پانچ معنی نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مادہ عبد کا اساسی مفہوم کسی کی بالادستی وبرتری تسلیم کر کے اس کے مقابلے میں اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہو جانا سر تابی و مزاحمت چھوڑ دینا اور اس کے لیے رام ہو جانا ہے یہی حقیقت بندگی وغلامی کی ہے۔ لہٰذا اس لفظ سے اولین تصور جو ایک عرب کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ بندگی وغلامی ہی کا تصور ہے ۔ پھر چوں کہ غلام کا اصلی کام اپنے آقا کی اطاعت و فرماں برداری ہے، اس لیے لازماً اس کے ساتھ ہی اطاعت کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اور جب کہ ایک غلام اپنے آقا کی بندگی واطاعت میں محض اپنے آپ کو سپرد ہی نہ کر چکا ہو بلکہ اعتقاداً اس کی برتری کا قائل اور اس کی بزرگی کا معترف بھی ہو، اور اس کی مہربانیوں پر شکر و احسان مندی کے جذبہ سے بھی سرشار ہو، تو وہ اس کی تعظیم وتکریم میں مبالغہ کرتا ہے مختلف طریقوں سے اعترافِ نعمت کا اظہار کرتا ہے۔ اور طرح طرح مراسم بندگی بجا لاتا ہے، اسی کا نام پرستش ہے اور یہ تصور عبدیت کے مفہوم میں صرف اس وقت شامل ہوتا ہے جب کہ غلام کا محض سر ہی آقا کے سامنے جھکا ہوا نہ ہو۔ بلکہ اس کا دل بھی جھکا ہوا ہو۔ رہے باقی دو تصورات تو وہ دراصل عبدیت کے ضمنی تصورات میں اصلی اور بنیادی نہیں“۔ بہ ظاہر اس سہ رکنی فہرست میں عبادت کا اصل مفہوم اور اس کا تقاضا دونوں موجود ہیں۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page