Urdu book · تعبیر کی غلطی

عبادت

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی ترتیب بالکل الٹ گئی ہے، بندگی یا اطاعت جو عبودیت کا خارجی مظہر ہے، اس کو اس تشریح میں اصل قرار دیا گیا ہے۔ اور خضوع و پرستش جو عبادت کا اصل اور براہِ راست مفہوم ہے، اس کو محض تیسرے تقاضے کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ یہی بات دوسری جگہ ان لفظوں میں ہے: "عبادت کا لفظ عبد سے نکلا ہے۔ عبد کے معنی بندے اور غلام کے ہیں۔ اس لیے عبادت کے معنی بندگی اور غلامی کے ہوئے ۔" ( خطبات مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، لاہور، 2012، صفحہ 104) عبادت کا لفظ عبد سے نہیں نکلا ہے بلکہ اس کے برعکس، عبد کا لفظ عبادت سے ماخوذ ہے۔ عبد (بمعنی بندہ اور غلام) حقیقت عبادت کا ایک مظہر ہے، نہ کہ یہی اصل عبادت ہے۔ مگر زیر بحث ذہن کو مظہر سے زیادہ دلچسپی تھی اس لیے اس نے عبد کو اصل قرار دے کر اسی کی بنیاد پر عبادت کی تشریح شروع کردی۔ اس طرح اصل ترتیب بالکل الٹ گئی۔ اور صرف ترتیب نہیں الٹی بلکہ جامعیت پیدا کرنے کے باوجود عبادت کی اصل روح اور اس کا تقاضا دونوں غائب ہوگئے۔ کیوں کہ تقاضا ہمیشہ اصل حقیقت کے جاگزیں ہونے کے بعد اس سے بطور نتیجہ نکلتا ہے۔ پھر جب اصل ہی اپنی جگہ سے ہٹ جائے تو نتیجہ کہاں سے برآمد ہوگا۔ تقاضے کو اصل کی جگہ رکھنا ایسا ہی ہے جیسے درخت کو الٹا کر کے نصب کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ جب شاخیں زمین میں دبا دی جائیں اور جڑ کو اوپر فضا میں کھڑا کر دیا جائے تو دونوں میں سے کوئی ایک بھی باقی نہیں رہے گا، شاخ بھی زندگی سے محروم ہو جائے گی اور جڑ بھی۔ کتاب میں مشہور عربی لغت لسان العرب کے حوالے سے ”عبادت“ کے پانچ معنی بتائے گئے ہیں۔ جن میں سے مصنف کے نزدیک تین ”اصلی اور بنیادی“ ہیں۔ (صفحہ 72) مجھے نہیں معلوم کہ یہ تین یا پانچ کی تعداد کیوں کر مقرر کی گئی ہے۔ کیوں کہ لسان العرب میں اس مادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page