عبادت
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
کے جو استعمالات بتائے گئے ہیں وہ تو اتنے زیادہ ہیں کہ پانچ کیا شاید پندرہ تک انھیں شمار کیا جا سکتا ہے تاہم مجھے اس سے کوئی بحث نہیں۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ عبادت کے ”تین اصلی اور بنیادی“ مفہومات کو جس طرح قرآن سے ثابت کیا گیا ہے، وہ نہایت ناقص استدلال ہے جس میں مختلف قسم کے خلا پائے جاتے ہیں۔ یہاں میں دو حوالوں کا تجزیہ کروں گا۔ ”عبادت بمعنی اطاعت“ کے عنوان سے حسب ذیل آیات نقل کی گئی ہیں: (صفحہ 74) احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ. مِنْ دُونِ اللَّهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَى صِرَاطِ الْجَحِيمِ ..... وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ. قَالُوا إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ. قَالُوا بَلْ لَمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ. وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ بَلْ كُنْتُمْ قَوْماً طَاغِينَ (37:22-30)۔ یعنی، (جب قیامت برپا ہوگی تو اللہ فرمائے گا) تمام ظالموں اور ان کے ساتھیوں کو اور ان معبودانِ غیر اللہ کو جن کی وہ عبادت کرتے تھے جمع کرو اور انھیں جہنم کا راستہ دکھاؤ۔..... پھر وہ آپس میں ایک دوسرے سے ردو کد کرنے لگیں گے۔ عبادت کرنے والے کہیں گے کہ تم وہی لوگ تو ہو جو خیر کی راہ سے ہمارے پاس آتے تھے۔ ان کے معبود جواب دیں گے کہ اصل میں تم خود ایمان لانے پر تیار نہ تھے۔ ہمارا کوئی زور تم پر نہ تھا تم آپ ہی نافرمان لوگ تھے۔ اوپر میں نے آیات کا جو ترجمہ دیا ہے وہ زیرِ بحث کتاب کا ترجمہ ہے، اس کے بعد ان آیات کے نیچے حسب ذیل نوٹ ہے : ”اس آیت میں عابدوں اور معبودوں کے درمیان جو سوال و جواب نقل کیا گیا ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں معبودوں سے مراد بُت اور دیوتا نہیں ہیں جن کی پوجا کی جاتی تھی۔ بلکہ وہ پیشوا اور رہنما ہیں جنھوں نے خیر طلب بن کر انسانوں کو گمراہ کیا۔ جو تقدس کے جامے پہن پہن کر نمودار ہوئے،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader