Urdu book · تعبیر کی غلطی

عبادت

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

جنھوں نے سجادوں اور تسبیحوں اور جیبوں سے بندگانِ خدا کو دھوکا دے دے کر اپنا معتقد بنایا جنھوں نے اصلاح اور خیر خواہی کے دعوے کر کے شر اور فساد پھیلائے، ایسے لوگوں کی اندھی تقلید اور ان کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت کرنے ہی کو یہاں عبادت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (صفحات 75-74) مندرجہ بالا تشریح میں عبادت کو تمدنی اطاعت کے معنی میں لینے کا راز مصنف کی اس غلطی میں چھپا ہوا ہے کہ انھوں نے آیت میں مذکور گفتگو کو عابدوں اور معبودوں کے درمیان گفتگو فرض کر لیا ہے ۔ حالانکہ یہ خود عابدوں ہی کے دو گروہوں کے درمیان ہے، نہ کہ عابدوں اور معبودوں کے درمیان ۔ اپنی اس غلط فہمی کی وجہ سے انھوں نے قَالُو ابِلۡ لَّکُمۡ تَکُونُوا مُؤۡمِنِیۡنَ کا ترجمہ کیا ہے ۔ ”ان کے معبود جواب دیں گے کہ .....“ مگر اس فقرہ میں قَالُو کا مرجع معبود نہیں ہے بلکہ اَلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں جن گروہوں کا ذکر ہے وہ صرف دو نہیں ہیں بلکہ تین گروہ ہیں۔ ان آیات میں قیامت کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے جب کہ تین گروہ ایک جگہ جمع کیے جائیں گے : 1۔ اَلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ــــ اس سے مراد وقت کے وہ لیڈر یا سر بر آوردہ لوگ ہیں جو خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو گمراہ کیا۔ 2۔ اَزۡوَاج ــــ اس سے مراد مذکورہ بالا باطل رہنماؤں کے پیرو اور ان کے ساتھی ہیں (زوج کے اصل معنی قرین کے ہیں۔ یعنی مصاحب) 3۔ مَّا کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ــــ اس سے مراد وہ ہیں جن کی خدا کے سوا عبادت کی جاتی تھی، یعنی اصنام۔ ان آیات میں قیامت کا وہ منظر پیش کیا گیا ہے جب تینوں گروہ اکٹھا کیے جائیں گے۔ اس وقت پہلے اور دوسرے گروہ کے درمیان بحث ہوگی۔ دوسرا گروہ کہے گا کہ تم نے اپنے اثرات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page