عبادت
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
سے کام لے کر ہم کو باطل معبودوں کی پرستش میں مبتلا کیا۔ پہلا گروہ جواب دے گا کہ نہیں بلکہ تم خود اپنی گمراہی کے ذمہ دار ہو۔ اگلی آیتیں اس کو بالکل واضح کر دیتی ہیں۔ جن میں ایک گروہ کی زبان سے کہا گیا ہے ۔ " جیسے ہم نے تمہیں گمراہ کیا ویسے ہی ہم بھی گمراہ تھے “ یعنی ہم خود بھی غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے اور تم کو بھی اس میں مبتلا کیا۔ اس کے بعد گروہ اول، جس کی قائدانہ گمراہی کی وجہ سے قرآن نے اس کو ظالم ، مجرم اور متکبر کہا ہے، پیغمبر کی دعوت کے مقابلے میں ان کا یہ جواب نقل کیا گیا ہے : أَإِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (36 : 37) - یعنی ، ان متکبروں کے سامنے جب لا الہ الا اللہ کی دعوت پیش کی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے ۔ کیا ایک شاعر دیوانے کے لیے ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں گے۔ یہ آیت صریح طور پر ثابت کر رہی ہے کہ محولہ بالا تشریح میں جن کو معبود قرار دیا گیا ہے وہ معبود نہیں تھے بلکہ وہ خود بھی کسی دوسرے الہ کو پوجتے تھے۔ یہی مفہوم تمام مفسرین نے لیا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو، تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحات 5-4 ، تفسیر روح المعانی جلد 23، صفحات 74-73) اسی طرح ” عبادت“ بمعنی غلامی واطاعت “ کے لیے حسب ذیل آیت نقل کی گئی ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ (172: 2) ۔ یعنی ، اے ایمان لانے والو! اگر تم خدا کی عبادت کرتے ہو تو ہم نے جو پاک چیزیں تمہیں بخشی ہیں۔ انھیں کھاؤ اور خدا کا شکر ادا کرو ۔ اس آیت کی تشریح میں حسب ذیل الفاظ درج ہیں : ” اس آیت کا موقع محل یہ ہے کہ اسلام سے پہلے عرب کے لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں کے عبد یعبد کے اصل معنی غلامی یا اطاعت کے نہیں ہیں۔ البتہ مجازی طور پر یہ لفظ ان مفہومات کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader