دوسرا مرحلہ
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں میں اپنے اس احساس کا اظہار کروں گا کہ جماعت کے حلقہ میں اب تک جن لوگوں سے واقف ہوا ہوں ان میں صاحب موصوف پہلے شخص ہیں جن کو میں دین سے واقفیت کے معاملہ میں سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ جماعت کے عام رکن کی حیثیت میں ہوتے تو یقیناً ان کا تبصرہ کچھ اور ہوتا۔ مگر یہ قدرتی بات ہے کہ ایک سرکاری افسر کسی واقعہ کے بارے میں جو کچھ کہے گا اس میں شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کی منصبى حیثیت غالب آجائے گی اور حقیقت سے مطابقت کی رعایت بہت کم ہوگی۔ 4۔ ایک بزرگ جو عالم بھی ہیں اور مجلس شوریٰ کے رکن بھی۔ انہوں نے تحریر دیکھنے کے بعد کہا کہ اس سے پہلے آپ سے جو مختصر باتیں ہوئی تھیں، ان سے میں نے یہ سمجھا تھا کہ آپ کو یہ اعتراض ہے کہ مولانا مودودی نے دین کی تشریح میں غلو کیا ہے، اور اس معنی میں مجھے آپ سے اتفاق تھا۔ مگر اب آپ کی تحریر دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ آپ کا اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے دین کی تعبیر ہی غلط کی ہے۔ اب مجھے آپ سے سخت اختلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلی گفتگو بعد کو ہوگی۔ مگر بار بار کی ملاقات میں یاد دہانی کے باوجود تفصیلی گفتگو کی نوبت نہیں آئی اور نہ ایسا ہوا کہ میرے کسی پوائنٹ کو لے کر وہ اسے رد کرتے۔ اس سلسلے میں ان سے آخری ملاقات 17 اکتوبر 1962ء کو اعظم گڑھ میں ہوئی۔ جب انہوں نے دوبارہ تفصیلی طور پر میری تحریر کا مطالعہ کیا۔ مگر مطالعہ کے بعد جب میں نے تبصرہ پوچھا تو وہ خاموش رہے، صرف یہ جملہ ارشاد فرمایا: "مجھے آپ کے نقطہ نظر سے اختلاف ہے" 5۔ ایک بزرگ جو جماعت اسلامی کے تحریری محاذ پر کام کر رہے ہیں، انہوں نے میری تحریری یادداشت پڑھ کر اس کے بارے میں خود بھی تحریری رائے دی۔ یہ پوری تحریر بعینہ حسب ذیل ہے: برادر محترم السلام علیکم ورحمۃ اللہ میں نے آپ کا مقالہ پڑھا۔ اس کو ختم کرنے کے بعد میرے دل سے دو دعائیں نکلیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader