عبادت
Urdu book, p. 230
By Maulana Wahiduddin Khan
احکام اور اپنے آباؤ اجداد کے اوہام کی پیروی میں کھانے پینے کی چیزوں کے متعلق طرح طرح کی قیود کی پابندی کرتے تھے ۔ جب ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم ہماری عبادت کرتے ہو، تو ان ساری پابندیوں کو ختم کرو اور جو کچھ ہم نے حلال کیا ہے اسے حلال سمجھ کر بے تکلف کھاؤ پیو ۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے پنڈتوں اور بزرگوں کے نہیں بلکہ ہمارے بندے ہو، اور اگر تم نے واقعی ان کی اطاعت وفرماں برداری چھوڑ کر ہماری اطاعت وفرماں برداری قبول کی ہے تو اب تمھیں حلت وحرمت اور جواز و عدم جواز کے معاملہ میں ان کے بنائے ہوئے ضابطوں کے بجائے ہمارے ضابطہ کی پیروی کرنی ہوگی ۔ لہٰذا یہاں بھی عبادت کا لفظ غلامی اور اطاعت ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے“۔ (صفحہ 73) اس آیت میں ”اگر تم خدا کی عبادت کرتے ہوتو “ کے الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ یہاں جس چیز کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ عبادت کا براہِ راست مفہوم اور اس کا ”اصلی اور بنیادی تصور“ نہیں بلکہ عبادت کا ایک تقاضا ہے۔ محولہ بالا تشریح کے ابتدائی فقروں میں خود یہ فرق پایا جا رہا ہے ۔ مگر آخر تک پہنچتے پہنچتے بات بدل گئی اور دعویٰ کر دیا گیا کہ ” یہاں عبادت کا لفظ غلامی اور اطاعت کے معنی میں استعمال ہوا ہے“۔ بحث کے آخر میں وہ آیتیں درج کی گئی ہیں جو مصنف کے نزدیک عبادت کے تینوں مفہومات کی جامع “ ہیں۔ یعنی ان میں عبادت کا یہ مکمل تصور پیش کیا گیا ہے کہ ” غلامی اطاعت اور پرستش “ تینوں معنوں میں خدا کو اپنا معبود بناؤ۔ مگر کسی ایک سے بھی موصوف کا جامع اور مکمل تصورِ عبادت ثابت نہیں ہوتا۔ یہاں میں چند آیتوں پر گفتگو کروں گا۔ قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِنْ دِينِي فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (10:104)۔ یعنی، کہو کہ لوگو! اگر تمھیں ابھی تک معلوم نہیں ہے کہ میرا دین کیا ہے تو تمھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader