Urdu book · تعبیر کی غلطی

عبادت

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

کی عبادت نہیں کرتا بلکہ میں اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں، ایمان لانے والوں میں شامل ہو جاؤں۔ اس سلسلے میں بیان میں آگے یہ فقرہ ہے: وَلا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لا يَنْفَعُكَ وَلا يَضُرُّكَ (10:106)۔ یعنی، اور اللہ کے علاوہ ان کو نہ پکارو جو تم کو نہ نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں عِبَادَةً مِّن دُونِ اللہ سے مراد وہ عمل ہے جو ان ہستیوں کے تعلق سے ظاہر ہوتا ہے جن کو آدمی نافع و ضار سمجھ کر پکارتا ہے۔ یعنی یہاں عبادت سے مراد پرستش ہے۔ اور غیر از خدا معبودوں سے مراد بت۔ فَلَا أَعْبُدُ الَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَنِ الْأَوْثَانِ الَّتِي لَا تَعْقِلُ (تفسیر القرطبی، جلد 8، صفحہ 387)۔ یعنی، "خدا کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا" کا مطلب یہ ہے کہ میں بتوں کو نہیں پوجتا جو عقل و شعور نہیں رکھتے۔ ایک آیت یہ ہے: وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (11:123)۔ یعنی، آسمانوں اور زمین کی جس قدر حقیقتیں بندوں سے پوشیدہ ہیں۔ ان کا علم اللہ ہی کو ہے اور سارے معاملات اسی کی سرکار میں پیش ہوتے ہیں۔ لہذا تو اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ رکھ۔ اس آیت میں فاعبدہ سے پہلے إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ کا فقرہ ہے اور اس کے بعد وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں عبادت کا حکم دینے کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ تمام مخلوقات کا کارساز ہے، اسی پر بھروسہ کرو اور اسی کو اپنا ملجا و ماویٰ بناؤ۔ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ،“ أيِ الْجَأْ إِلَيْهِ وَثق بِه (تفسير القرطبی، جلد 9، صفحه 117)۔ یعنی، "اسی کی عبادت کر اور اسی پر توکل کر" یعنی اس کو اپنا ملجا بنا لے اور اسی پر بھروسہ کر۔ ایک آیت یہ ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page