عبادت
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُوْنِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (12:40) ۔ یعنی، اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کے لیے کوئی دلیل معبودیت نازل نہیں کی۔ اقتدار صرف اللہ کے لیے خاص ہے اس نے حکم دیا ہے کہ خود اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے یہی سیدھا طریقہ ہے۔ اللہ کے سوا جن کی تم عبادت کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کے لیے کوئی دلیل معبودیت نازل نہیں کی۔ اقتدار صرف اللہ کے لیے خاص ہے اس نے حکم دیا ہے کہ خود اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے یہی سیدھا طریقہ ہے۔ اس آیت میں اَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا کا ٹکڑا ظاہر کر رہا ہے کہ اس کو اس قسم کے کسی "جامع" مفہوم کا ماخذ نہیں بنایا جا سکتا جو زیر بحث کتاب میں پیش کیا گیا ہے۔ ”تمہارے معبود محض کچھ نام ہیں جو تم نے رکھ لیے ہیں“ یہ وضاحت بتاتی ہے کہ یہاں عبادت سے اس قسم کا کوئی عمل مراد ہے جو ان معبودوں کی نسبت سے ظاہر ہوتا ہے جن کا در حقیقت کوئی وجود نہیں۔ جو عابدوں کے اپنے مفروضے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا معبود بت ہے، نہ کہ سیاسی حکمران ۔ دوسرے لفظوں میں یہاں جس چیز کی تردید کی گئی ہے وہ خدا کے سوا دوسری مفروضہ ہستیوں کو نافع و ضار سمجھ کر پکارنا اور ان کی پرستش کرنا ہے۔ اس لیے اس کے بالمقابل جس چیز کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ بھی اصلاً یہی ہو سکتا ہے کہ اسی کی پرستش کرو اور اسی کو نافع و ضار سمجھو۔ آیت کا یہی مفہوم مفسرین نے لیا ہے۔ قرطبی یہ بتاتے ہوئے کہ اَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ سے مراد ”اصنام“ ہیں۔ اگلے فقروں کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader