عبادت
Urdu book, p. 233
By Maulana Wahiduddin Khan
’’مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُوْنِهِ اِلَّا اَسْمَاءً‘‘ بَیِّنَ عَجْزَ الْأَصْنَامِ وَضَعْفَهَا فَقَالَ: ’’مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُوْنِهِ‘‘ اَيْ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ اِلَّا ذَوَاتِ اَسْمَاءٍ لَا مَعَانِيَ لَهَا، ’’سَمَّيْتُمُوهَا‘‘ مِنْ تِلْقَاءِ اَنْفُسِكُمْ۔ وَقِيلَ: عَنَى بِالْأَسْمَاءِ الْمُسَمِّيَاتِ، اَيْ مَا تَعْبُدُونَ اِلَّا اَصْنَامًا لَيْسَ لَهَا مِنَ الْإِلٰهِيَّةِ شَيْءٌ اِلَّا الِاسْمَ، لِأَنَّهَا جَمَادَاتٌ (تفسیر القرطبی، جلد 9، صفحہ 192)۔ یعنی، مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُوْنِهِ اِلَّا اَسْمَاءَ کے فقرے سے بتوں کا عجز اور ان کی کمزوری بیان کی فرما یا کہ خدا کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ محض کچھ نام ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ تم نے خود سے یہ نام رکھ لیے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اسماء سے مراد ان کے مسمی ہیں۔ یعنی تم جن کی پرستش کرتے ہو وہ محض بت ہیں جن کے اندر الوہیت کا کوئی جزء نہیں۔ کیوں کہ وہ تو محض جمادات ہیں۔ اس سلسلے کی آخری اور غالباً سب سے نمایاں آیت یہ ہے: فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ اَحَدًا (18:110) جو اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو، اسے چاہیے کہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ اس آیت میں آخری فقرے کا ترجمہ کتاب میں یہ کیا گیا ہے۔ ’’اور اپنے رب کی عبادت میں کسی اور کی عبادت شریک نہ کرے‘‘ اور اس سے یہ مطلب نکال لیا گیا ہے کہ اس میں ’’قرآن اپنی پوری دعوت پیش کر رہا ہے۔‘‘ (صفحہ 84) یعنی یہ کہ پرستش سے لے کر تمدنی اور سیاسی زندگی تک ہر جگہ احکام الہی کی تعمیل کی جائے۔ مگر یہ ترجمہ اور یہ مفہوم دونوں صحیح نہیں۔ اس آیت کا یہ ترجمہ نہیں ہے کہ۔۔۔ ’’اپنے رب کی عبادت میں کسی اور کی عبادت شریک نہ کرے۔ بلکہ صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ’’اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔‘‘ یعنی یہاں بات یہ نہیں کہی جا رہی ہے کہ زندگی کے پورے نظام میں جو مفصل اور مکمل عبادت تمہیں کرنی ہے اس کے حصے بخرے نہ کرو۔ بلکہ یہ کہا جا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader