تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 234
By Maulana Wahiduddin Khan
رہا ہے کہ خدا کی عبادت جو تم کرو، اس میں کسی اور کو خوش کرنے کا خیال تمھارے دل میں نہیں آنا چاہیے ۔ بلکہ تمھاری عبادت بالکل لوجہ اللہ ہونی چاہیے ۔ آیت کا یہی مفہوم روایات سے اور مفسرین کی تشریح سے ثابت ہے۔ میں صرف ایک اقتباس نقل کروں گا: وَقَالَ المَاوَرْدِيُّ وَقَالَ جَمِيعُ أَهلِ التَّأوِيل: مَعْنَى قَوْلِهِ تَعَالَى: ”وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً “ اِنَّهُ لَا يُرَائِي بِعَمَلِهِ أَحَدًا (تفسیر القرطبی، جلد 11، صفحہ 70)۔ یعنی، ماوردی اور تمام مفسرین نے کہا ہے کہ: لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَداً کا مطلب یہ ہے کہ وہ دکھانے کے لیے عمل نہ کرے۔ یعنی اس کے اندر ریا کا جذبہ نہ ہو۔ دین اس سلسلے کا چوتھا اور آخری لفظ ”دین “ ہے۔ کتاب میں پہلے کلام عرب سے اس کے چار معانی متعین کیے گئے ہیں۔ اور اس کے بعد ”قرآن میں لفظ دین کا استعمال “ کے عنوان کے تحت حسب ذیل سطریں درج ہیں: ” ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ لفظ دین کی بنیاد میں چار تصورات ہیں، یا با الفاظ دیگر یہ لفظ عربی ذہن میں چار بنیادی تصورات کی ترجمانی کرتا ہے“۔ 1ـ غلبہ و تسلط، کسی ذی اقتدار کی طرف سے۔ 2ـ اطاعت، تعبد اور بندگی صاحب اقتدار کے آگے جھک جانے والے کی طرف سے۔ 3ـ قاعدہ و ضابطہ اور طریقہ جس کی پابندی کی جائے۔ 4ـ محاسبہ اور فیصلہ اور جزاو سزا۔ انھیں تصورات میں سے کبھی ایک کے لیے اور کبھی دوسرے کے لیے اہل عرب مختلف طور پر اس لفظ کو استعمال کرتے تھے۔ مگر چوں کہ ان چاروں امور کے متعلق عرب کے تصورات پوری طرح صاف نہ تھے اور کچھ بہت زیادہ بلند بھی نہ تھے اس لیے اس لفظ کے استعمال میں ابہام پایا جاتا تھا اور یہ کسی باقاعدہ نظام فکر کا اصطلاحی لفظ نہ بن سکا۔ قرآن آيا تو اس نے اس لفظ کو اپنے منشاء کے لیے مناسب پا کر بالکل واضح اور متعین مفہومات کے لیے استعمال کیا اور اس کو اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader