دین
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
مخصوص اصطلاح بنا لیا۔ قرآنی زبان میں لفظ دین ایک پورے نظام کی نمائندگی کرتا ہے جس کی ترکیب چارا جزاء سے ہوتی ہے۔ 1۔ حاکمیت واقتدار اعلیٰ۔ 2۔ حاکمیت کے مقابلے میں تسلیم واطاعت۔ 3۔ وہ نظامِ فکر و عمل جو اس حاکمیت کے زیر اثر بنے۔ 4۔ مکافات جو اقتدار اعلیٰ کی طرف سے اس نظام کی وفاداری واطاعت یا سرکشی و بغادت کے صلہ میں دی جائے۔ قرآن کبھی لفظ دین کا اطلاق معنی اول و دوم پر کرتا ہے، کبھی معنی سوم پر، کبھی معنی چہارم پر اور کہیں الدَّین بول کر یہ پورا نظام اپنے چاروں اجزاء سمیت مراد لیتا ہے۔ (صفحات 88-87) اس کے بعد صاحب کتاب ان چاروں معانی کے لیے قرآن کی الگ الگ آیتیں درج کر کے آخر میں ”دین ایک جامع اصطلاح“ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: ”یہاں تک تو قرآن اس لفظ کو قریب قریب انھیں مفہومات میں استعمال کرتا ہے جن میں یہ اہل عرب کی بول چال میں مستعمل تھا۔ لیکن اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لفظ دین کو ایک جامع اصطلاح کی حیثیت سے استعمال کرتا ہے اور اس سے مراد ایک ایسا نظامِ زندگی لیتا ہے جس میں انسان کسی کا اقتدار اعلیٰ تسلیم کر کے اس کی اطاعت وفارماں برداری قبول کرے، اس کے حدود و ضوابط اور قوانین کے تحت زندگی بسر کرے ۔ اس کی فرماں برداری پر عزت، ترقی اور انعام کا امیدوار ہو اور اس کی نا فرمانی پر ذلت وخواری اور سزا سے ڈرے۔ غالباً دنیا کی کسی زبان میں کوئی اصطلاح ایسی جامع نہیں ہے جو اس پورے مفہوم پر حاوی ہو۔ موجودہ زمانہ کا لفظ ”اسٹیٹ“ کسی حد تک اس کے قریب پہنچ گیا ہے، لیکن ابھی اس کو ”دین“ کے پورے معنوی حدود پر حاوی ہونے کے لیے مزید وسعت درکار ہے۔“ (صفحات 93-92)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader