دین
Urdu book, p. 236
By Maulana Wahiduddin Khan
اس اقتباس میں دین کی انتہائی تعبیر زندگی کی ایک جامع اسکیم یا اسٹیٹ کے نظام کے الفاظ میں کہی گئی ہے۔ اس میں شک نہیں دین ایک اعتبار سے اسٹیٹ اور نظام بھی ہے۔ مگر دین کا جامع اور مکمل تصور دینے کے لیے جو اسٹیٹ اور نظام کے الفاظ بولے جائیں تو یقیناً دین نہایت ناقص اور نامکمل ہوکر رہ جاتا ہے۔ کیوں کہ اسٹیٹ یا نظام، خواہ کتنا ہی وسیع اور جامع ہو، وہ بہر حال صرف ایک قانونی ڈھانچہ یا ایک مجموعہ ہدایات ہے جس کا انسان کے جذبات واحساسات سے کوئی حقیقی تعلق نہیں۔ وہ انسان کے اپنے اندرون سے نہیں ابلتا۔ بلکہ خارج سے اس کے اوپر مستولی کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، دین خدا سے تعلق جوڑنے کا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان جو تعلق ہونا چاہیے، وہ اپنی فطری شکل میں قائم ہوگیا ہے۔ اس کے بعد زندگی میں جو اعمال وافعال ظاہر ہوتے ہیں، وہ سب گویا اسی تعلق کے خارجی ظہور ہیں جو خدا کی ہدایت اور رہنمائی کے مطابق بندہ اپنی زندگی میں شامل کرتا چلا جاتا ہے۔ اسٹیٹ اور نظام مجرد ایک ظاہری ڈھانچہ ہے۔ اس کے برعکس، دین ایک حقیقت کے اندرونی تمکن کا خارجی ظہور۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی میں حقیقی اور پائیدار ثمرات صرف دین ہی کے ذریعہ پیدا ہوسکتے ہیں۔ نظام اور اسٹیٹ کے تصورات صرف ابتدائی جوش دیتے ہیں اور اس کے بعد زندگی اور نظام دونوں الگ الگ ہوجاتے ہیں اور دونوں میں کوئی حقیقی ربط باقی نہیں رہتا۔ یہ صحیح ہے کہ دین کا اظہار ان چیزوں کی شکل میں بھی ہوتا ہے جن کے مجموعے کو اسٹیٹ اور نظام کہا جاتا ہے۔ مگر خدا کا دین اصلاً نام ہے اس اعلیٰ ترین کیفیت کا جس کا ظہور دعا واخلاص، (المومن، 40:65) اور عبادت و انابت (الزمر، 39:17) کی شکل میں ہوتا ہے ۔ دین دار بننے کے بعد اس دنیا میں آدمیوں کو جو سب سے بڑی نعمت ملتی ہے، وہ اپنے رب سے اسی قسم کا تعلق ہے۔ شخصی حیثیت سے ایک مومن کے لیے دین کی اعلیٰ ترین حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی طرف حد درجہ مشتاق ہو کر خوف وطمع کے جذبات کے ساتھ اس کو پکار رہا ہو، اس نے اپنے تمام احساسات وجذبات کو اس کے لیے خاص کر دیا ہو، وہ بالکل اس کا عابد اور پرستار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader