دین
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
بن گیا ہو۔ اپنی ساری توجہ اس نے اس کی طرف مائل کردی ہو۔ یہی شخصی اعتبار سے دین کی اعلیٰ ترین حقیقت ہے۔ یہی ایک دین داری وہ سب سے بڑی یافت ہے جس کو لے کر اسے اپنے رب کے پاس جانا ہے۔ جس کو اس کے دین نے یہ چیز دی، اسی نے دراصل دین کو پایا۔ اور جس کو اس قسم کا تعلق باللہ نہیں ملا۔ وہ سب کچھ پانے کے باوجود ابھی تک دین سے محروم ہے۔ یہی نہیں بلکہ سیاسی دین داری بھی حقیقت اس کی زندگی میں پیدا ہوسکتی ہے جس کے اندر حقیقی دین داری پیدا ہوئی ہو۔ اس اصلی اور حقیقی دین داری میں جو شخص جتنا ناقص ہوگا، اتنا ہی وہ سیاسی دین داری میں ناقص ثابت ہوگا۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ دین کی سب سے بڑی حقیقت ، بلکہ اس کا اصل اور مغز، دین کی ”جامع تصویر بنانے کے باوجود اس میں نظر نہیں آتی تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہوتے ہیں کہ دین کی وہی ”ناقص تصویر صحیح تھی جو صدیوں سے امت اپنے سینے سے لگائے چلی آرہی تھی۔ دین کی یہ نئی تصویر، اپنی جامعیت کے باوجود اس کی حقیقی تصویر نہیں۔ دین کی اس تصویر میں ایک زمینی نتیجے کو پا نا دین کا مقصد اصلی قرار پانا ہے، جب کہ شخصی ذمہ داری کی حیثیت سے ایک ذاتی نتیجے کو پا نا دین کا اصل مقصود ہے۔ یہاں مجھے ایک بزرگ کے الفاظ یاد آتے ہیں جو انھوں نے میرے اسی قسم کے اعتراض کے جواب میں کہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک امت مسلمہ بحیثیت امت جس چیز کو پالینا چاہتی ہے، وہ قطعی طور پر ایک ایسی زندگی کا قیام ہے جس میں دین اللہ کے سوا کسی اور دین یا نظام فکر وعمل کی کارفرمائی باقی نہ رہ جائے۔ مگر یہ جماعت کا نصب العين ہے، نہ کہ فرد کا۔ جہاں تک فرد کی حقیقی غایت مقصود کا تعلق ہے وہ قطعی طور پر صرف اللہ کی رضا اور آخرت کی فلاح کا حصول ہے۔ اور یہ رضا اور فلاح اسی طرح حاصل ہوتی ہے کہ فرد اپنی ذاتی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کردے۔ اگر اس نے اپنی انفرادی ذمہ داریوں کو ادا کر دیا تو وہ اس حال میں مراکہ اس کا دینی کام پورا ہو گیا تھا۔ لیکن جماعت یا امت کے نصب العین کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader