Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 238

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سلسلے میں نہ تو جدوجہد کا کوئی آخری وقت ہے ۔ نہ اس کا حاصل کر لینا جماعت کی ذمہ داری۔ جب تک امت مسلمہ اس سرزمین پر موجود ہے اس وقت تک اس نصب العین— مکمل اسلامی نظام کے قیام—کے لیے جدوجہد چلتی رہے گی" موصوف کے الفاظ میں پہلی چیز افراد کا انفرادی نصب العین ہے۔ اور دوسری چیز" جماعت کا اجتماعی نصب العین"۔ نصب العین کی اس دوہری تقسیم کے باوجود اصل بات اپنی جگہ باقی رہی۔ دونوں صورتوں میں نصب العین ایک ہی ہے۔ دنیا میں مکمل اسلامی نظام کا قیام۔ فرق صرف یہ ہے کہ فرد اپنی بساط بھر کوشش کر کے اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاتا ہے اور جماعت کی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ نسل در نسل اس کو جاری رکھے۔ تا آنکہ ساری دنیا میں مکمل اسلامی نظام کا قیام عمل میں آجاۓ۔ مگر اس تقسیم کا اصل مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس سے جو کچھ ثابت ہوتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ فرد اس وقت تک مکلف ہے جب تک وہ دنیا میں موجود ہے، اور جماعت اس وقت تک مکلف ہے جب تک وہ دنیا میں موجود ہے، اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ "مکمل اسلامی نظام کا قیام" وہ اصل مشن ہے جس کو انبیاء لے کر آئے اور جو ہمارے سپرد ہوا ہے۔ اجتماعی نصب العین کے مندرجہ بالا مخصوص تصور کو ثابت کرنے کے لیے موصوف نے ایک تاریخی نظیر بھی دی ہے، جو ان کے الفاظ میں حسب ذیل ہے : " حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی کھوئ ی ہوئی بھیڑوں کی تلاش میں آئے تھے۔ یعنی ان کا مشن یہ تھا کہ بنی اسرائیل پھر سے پوری طرح اسلامی زندگی اختیار کر لیں۔ لیکن جہاں تک ان کی اپنی راست جدوجہد کا تعلق ہے، کل بارہ افراد آپ کے ساتھی بن سکے۔ مگر آپ کے بعد بھی اس دعوت الی الخیر کا سلسلہ جاری رہا۔ حتی کہ ایک لمبی مدت گزر چکنے پر وہ وقت آگیا جب آپ کے پیروؤں کا بول بالا ہوا۔ منکرین مغلوب ہو کر رہ گئے، اور وہ بات عالم وجود میں آگئی جسے آں جناب وجود میں لانا چاہتے تھے، یعنی وہ مشن پورا ہو گیا جسے آپ نے شروع کیا تھا۔ چنانچہ قرآن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page