Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 239

By Maulana Wahiduddin Khan

مجید نے سورہ صف کے آخر میں اس طویل المدت اور کثیر المراحل سرگزشت کو جس انداز میں بیان کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک یہ دراصل ایک ہی تحریک اور ایک ہی مشن کی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ حالاں کہ تحریک کا بانی اور مشن کا اصل علم بردار دنیا سے کب کا جا چکا تھا۔ میں عرض کروں گا کہ یہ حوالہ صحیح نہیں۔ عیسائیوں کی تاریخ سے یہ ثابت نہیں ہوتا اور نہ قرآن و حدیث میں اس کا کہیں ذکر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے پیروؤں نے مذکورہ بالا قسم کی کوئی جدوجہد جاری رکھی اور بالآخر ہمہ گیر اور مکمل اسلامی نظام قائم کیا۔ سورہ صف کی جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس میں بھی ”ظاہرین“ کا لفظ ہے جس کے معنی محض ”غلبہ“ کے ہیں، نہ کہ کسی قسم کا جامع اور مکمل نظام قائم ہونے کے، اور آیت کے الفاظ کے مطابق یہ غلبہ بھی ایک دین کا دوسرے دین پر نہیں تھا بلکہ اعدائے مسیح پر مومنین مسیح کا تھا۔ اس آیت کی تاویل کے سلسلے میں قدیم مفسرین سے تین قول نقل کیے گئے ہیں۔ ایک حجت و برہان کے ذریعہ غلبہ۔ دوسرے یہ کہ آخر وقت میں حضرت مسیح علیہ السلام کا ”رفع“ ہوا تو آنجناب کے بارہ ساتھی جو اس وقت آپ کے پاس تھے باہم مختلف رائے ہو گئے۔ کوئی کہنے لگا کہ آپ خدا تھے، کسی نے کہا، آپ ابن اللہ تھے، کسی نے کہا نہیں آپ خدا کے بندے اور رسول تھے۔ اس پر ان ساتھیوں میں جھگڑا ہوا اور تلوار چلنے کی نوبت آ گئی۔ جس میں بالآخر وہ لوگ جیت گئے جنھوں نے صحیح بات کہی تھی۔ تیسری رائے یہ ہے کہ اس آیت میں جس غلبہ کا ذکر ہے اس سے مراد وہ غلبہ ہے جو آخری رسول کے زمانے میں ہوا، مگر علامہ آلوسی نے اس کے متعلق لکھا ہے کہ ”وهو خلاف الظاھر“ یعنی، یہ تاویل ظاہر الفاظ کے مطابق نہیں ہے۔ (روح المعانی، جلد 14 ، صفحہ (286) ذاتی طور پر میرا رجحان یہ ہے کہ یہاں بعض متاخر علما کی رائے زیادہ صحیح ہے۔ جو سورہ صف کی اس آیت میں یہود کے اوپر عیسائیوں کا (بحیثیت قوم) فی الجملہ غلبہ مراد لیتے ہیں۔ اس تاویل کے مطابق اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوا سے مراد مکمل قسم کے مومن نہیں ہیں، بلکہ حضرت مسیح علیہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page