دوسرا مرحلہ
Urdu book, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کو صحیح طور پر نہیں سمجھا ہے، تو مجھے اس کا صحیح فہم عطا فرما اور میدانِ حشر میں مجھے ان لوگوں میں نہ اٹھا جنہوں نے تیرے دین میں ذرہ برابر بھی تحریف کی ہو یا کسی تحریف کی تائید کی ہو بلکہ اپنے ان نیک بندوں کے زمرے میں اٹھا جو اس دین پر جئے اور مرے جسے تیرے حبیب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ہے۔ اے اللہ تمام جہان کے معبود برحق اگر تیرے بندے وحید الدین کا ذہن، دین کا صحیح فہم پا لینے کے بعد غلط تعبیر کی طرف جا رہا ہے تو پھر اسے صحیح فہم تک واپس لا، اور انھیں میدانِ حشر میں ان لوگوں میں نہ اٹھا، جنہوں نے تیرے دین کو غلط سمجھ کر اسے محدود کر دیا۔ اور یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ دنیا میں تو نے انسان کو کس چیز کا خلیفہ بنایا ہے۔ اس دعا کے بعد میں نے پھر آپ کے مقالے پر غور کیا، لیکن اپنے تھوڑے سے علم وفہم کو بحیثیت مجموعی اس مقالے کے خلاف ہی پایا، آپ نے جو کچھ پیش کیا ہے، ظاہر ہے کہ اس کا جواب چند لفظوں میں نہیں دیا جا سکتا، اس کے لیے کم سے کم اتنے ہی صفحات کی ضرورت پڑے گی، جتنے آپ نے صرف کیے ہیں اور پھر جواب فضول بھی ہے، اس لیے کہ ہر جواب کو آپ یہی سمجھیں گے کہ یہ دوسروں کے ذہن سے سوچا ہوا ہے۔ آخر میں چند باتیں نصح وخیر خواہی کے جذبے سے لکھ رہا ہوں، آپ اسی روشنی میں غور کریں: 1۔ آپ مولانا مودودی اور پوری جماعتِ اسلامی کی طرف سے شدید سوء ظن میں مبتلا ہیں اور یہ سوء ظن جو آپ کے دماغ میں بند تھا، اب اسے آپ نے کاغذ پر انڈیل دیا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کو کہیں اس کی جواب دہی نہیں کرنی ہے۔ آپ کے بہت سے اعتراضات اور بہت سی سوء ظنی محض آپ کے دماغی مفروضات کا نتیجہ ہیں، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ 2۔ آپ نے اظہارِ خیال کے لیے جو انداز اختیار کیا ہے، وہ انتہائی جارحانہ ہے، جیسے کوئی جماعت کا شدید مخالف اظہارِ خیال کرے اور اس معاملے میں آپ نے مولانا امین احسن کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader