Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 240

By Maulana Wahiduddin Khan

السلام کی نبوت کا اقرار کرنے والے (عیسائی) مراد ہیں، اور یہود کے اوپر عیسائیوں کا غلبہ کسی قسم کے ’’نظام‘‘ کا قیام نہیں ہے، بلکہ وہ محض ایک عمومی غلبہ ہے، جو یہود کے اوپر ان کے اس جرم کی دنیوی سزا کے طور پر مسلط کیا گیا ہے کہ انھوں نے حضرت مسیح کی نبوت کو نہیں مانا اور اپنے ارادے کی حد تک ،ان کو قتل کرنے کا جرم کیا۔ ’’دین‘‘ کے عربی زبان میں کئی معنی آتے ہیں مگر اس کا وہ اصل مفہوم جس کی وجہ سے اسلام کو دین کہا گیا، وہ پستی اور جھکاؤ ہے: الدِّيْنُ: الذُّلُّ (لسان العرب، جلد 13 ،صفحہ 170)۔ دَانَهُ دِيْنًا، أَيْ أَذَلَّهُ وَاسْتَعْبَدَهُ (الصحاح للجوہری، جلد 5، صفحہ 2118)۔ حدیث میں آیا ہے: الكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ المَوْتِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2459)۔ یعنی، عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کو مغلوب کرے اور آخرت کی زندگی کے لیے عمل کرے۔ دین دار بننا اصلاً کوئی سیاسی اور تمدنی واقعہ نہیں بلکہ وہ ایک بالکل ذاتی واقعہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک فرد خدا کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے، وہ اپنے نفس کو اس کے لیے زیر کر دے، وہ اپنے تمام احساسات اور جذبات کو مکمل طور پر اس کے حوالے کر دے۔ انھیں معنوں میں حضرت ابراہیم "مکمل‘‘ مسلم‘‘ تھے، حالاں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی ہمہ گیر نظام قائم نہیں کیا اور اسی اعتبار سے مکہ میں آخری رسول کے دین دار ہونے کا اعلان کیا گیا تھا حالاں کہ اس وقت تک نہ اسٹیٹ بنا تھا اور نہ اجتماعی احکام اترے تھے: قُلِ اللَّهَ أَعْبُدُ مُخْلِصاً لَّهُ دِينِي فَاعْبُدُوا مَا شِئْتُم مِّن دُونِهِ (39:14-15)۔ یعنی، کہو، میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اس کے لیے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے تم اس کے سوا جس کی چاہے عبادت کرتے رہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page