دین
Urdu book, p. 241
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی اعتبار سے اقامت صلٰوۃ اور ایتاے زکوٰۃ کو دین قیم کہا گیا ہے(البینۃ، 98: 5)۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ یہ کل دین نہیں ہے۔ جب دین داری کی یہ کیفیت کسی کے اندر پیدا ہوتی ہے تو قدرتی طور پر اس کی عملی زندگی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے، اس کو جن معاملات سے سابقہ پیش آتا ہے ان میں وہ دوسرے طریقوں کو چھوڑ کر خدا کے پسند کیے ہوئے طریقے کو اختیار کر لیتا ہے۔ اس کی خارجی زندگی، اس کی اندرونی حوالگی کی تصویر بن جاتی ہے۔ اس کے لیے ناقابل تصور ہو جاتا ہے کہ اپنے اختیار کو کسی ایسے کام میں استعمال کرے جو خدا کی پسند کے خلاف ہو۔ اس لحاظ سے سیاست اور تمدن سب کچھ دین میں داخل ہے۔ پہلی چیز دین کی اصل حقیقت ہے اور دوسری چیز اس حقیقت کا وہ تقاضا جو حالات کی نسبت سے اہل دین پر عائد ہوتا ہے۔ پہلی چیز لازماً ہر حال میں اور ہر شخص سے مطلوب ہے۔ اس کے بغیر کسی کی دین داری ، دین داری نہیں بنتی۔ اس لحاظ سے تمام انبیا و صلحا مکمل معنوں میں دین دار تھے۔ مگر دین کے تمدنی اور اجتماعی تقاضے علی الاطلاق مطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ حالات کی نسبت سے ان میں فرق ہوتا رہتا ہے۔ اسی لیے اس دوسرے اعتبار سے مختلف زمانے کے دین داروں میں فرق رہا ہے۔ کوئی اس کی تعمیل کر سکا اور کسی نے اس کی تعمیل نہیں کی۔ کسی کے اوپر اس قسم کے احکام اترے اور کسی کو ایسے احکام دیے ہی نہیں گئے۔ یہی وجہ ہے کہ دین، اپنی فہرست کے اعتبار سے جن اجزا کے مجموعے کا نام ہے، وہ شریعت میں الگ الگ لکھے ہوئے ملتے ہیں۔ مگر ایسی کوئی آیت نہیں ملتی جس میں علی الاطلاق اس پوری فہرست کی تعمیل کا مطالبہ کیا گیا ہو، الٰہ، رب اور عبادت کی بحث میں ”جامع مفہوم“ کی جو آیات پیش کی گئی ہیں۔ ان کی حقیقت پچھلے صفحات میں آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اب ان آیتوں پر بھی غور کر لیجیے جو دین کے جامع تصور کو ثابت کرنے کے لیے کتاب میں نقل کی گئی ہیں:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader