Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلی آیت یہ ہے: قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ (9:29) ۔ یعنی، اہل کتاب میں جو لوگ نہ اللہ کو مانتے ہیں (یعنی اس کو واحد مقدر اعلیٰ تسلیم نہیں کرتے) نہ یومِ آخرت (یعنی یوم الحساب اور یوم الجزاء) کو مانتے ہیں، نہ ان چیزوں کو حرام مانتے ہیں جنھیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے، اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ ہاتھ سے جزیہ ادا کریں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ اوپر میں نے آیت کا جو ترجمہ دیا ہے وہ صاحبِ کتاب کا ترجمہ ہے۔ اور اس کے بعد حسب ذیل سطریں درج ہیں: ”اس آیت میں ”دینِ حق“ اصطلاحی لفظ ہے جس کے مفہوم کی تشریح واضح اصطلاح جل شانہ نے پہلے تین فقروں میں خود ہی کر دی ہے۔ ہم نے ترجمہ میں نمبر لگا کر واضح کر دیا ہے کہ لفظ دین کے چاروں مفہوم ان فقروں میں بیان کیے گئے ہیں اور پھر ان کے مجموعے کو دینِ حق سے تعبیر کیا گیا ہے۔“(صفحہ 93) اس استدلال میں آیت کے جو معانی نکالے گئے ہیں، میرے علم کی حد تک وہ نہ کسی مفسر نے بیان کیے ہیں اور نہ آیت کے الفاظ اس کے متحمل ہیں۔ ”لا يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ“ کے فقرے سے دین کا ”پہلا“ اور ”دوسرا“ مفہوم نکالنا، یعنی یہ کہ وہ خدا کی” حاکمیت واقتدارِ اعلیٰ“ نہیں مانتے اور اس ”حاکمیت کے مقابلے میں تسلیم واطاعت کا رویہ اختیار نہیں کرتے، ویساہی استدلال ہے جیسے کچھ لوگ ایمان باللہ سے ایمان بالریاست کا مفہوم اخذ کرتے ہیں۔ اسی طرح وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهَ وَرَسُولُهُ سے دین کا ”تیسرا مفہوم“— (وہ نظام فکر و عمل جو اس حاکمیت کے زیرِ اثر بنے) ثابت کرنا محض الفاظ کی کھینچ تان ہے، نہ کہ علمی استدلال۔ پھر وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page