Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

میں دینِ حق کا مذکورہ بالا چاروں مفہوماتِ دین کے جامع کی حیثیت سے مذکور ہونا، ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے لیے سرے سے کوئی دلیل نہیں۔ آیت میں کوئی بھی لفظی قرینہ ایسا نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ دین حق یہاں معانی چہارگانہ کے مجموعہ کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ یہ آیت زیرِ بحث کتاب میں جو مخصوص مفہوم ثابت کرنے کے لیے نقل کی گئی ہے، وہ یقیناً اس سے نہیں نکلتا اور نہ کوئی مفسر اس کا قائل ہے۔ مگر اس سے قطع نظر آیت کی صحیح تاویل کیا ہے، اس میں علما کا اختلاف ہے۔ ایک گروہ يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ سے اسلام قبول کرنا مراد لیتا ہے (تفسیر القرطبی، جلد 8، صفحہ 110)۔ لیکن اس تاویل کی صورت میں آیت کے اندر ایک تضاد پیدا ہورہا ہے۔ اس کے مطابق اہل کتاب سے جنگ چھیڑنے کی وجہ یہ قرار پاتی ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کو اپنا دین نہیں بناتے۔ جب جنگ چھڑنے کی وجہ یہ ہے تو اسی بنیاد پر جنگ کا خاتمہ بھی ہونا چاہیے۔ یعنی یہ جنگ اس وقت رکنی چاہیے جب اہل کتاب دینِ حق کو قبول کر لیں یا لڑ کر ہلاک ہو جائیں جب ابتدائے جنگ کی بنیاد یہ ہے تو انتہائے جنگ کی بنیاد بھی قدرتی طور پر اسی کو ہونا چاہیے۔ مگر آیت کہتی ہے کہ اگر وہ جزیہ دے کر سیاسی اطاعت قبول کر لیں تو جنگ روک دی جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں، جنگ جب شروع ہوگی تو اس جرم کی بنا پر شروع ہوگی کہ اہل کتاب دینِ اسلام کو قبول کیوں نہیں کرتے مگر اس کے بعد صرف اس بنیاد پر روک دی جائے گی کہ انھوں نے جزیہ دینا منظور کر لیا ہے۔ اس لیے آیت کی صحیح تاویل یہ ہے کہ یہاں يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ کا فقرہ اہل دین کی سیاسی اطاعت قبول کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ تک ان کے ایمان نہ لانے کا ذکر ہے۔ اور اس کے بعد وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ میں سیاسی اطاعت قبول نہ کرنے کا۔ اہل کتاب کے لیے صحیح تو یہ تھا کہ وہ نبی آخر الزماں پر ایمان لاتے جس کی انھیں عرصہ سے بشارت دی جاتی رہی ہے۔ مگر جب انھوں نے ایسا نہیں کیا تو دوسری متبادل صورت یہ تھی کہ وہ نبی کی سیاسی اطاعت پر راضی ہو جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page