دین
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
الْوَاجِبُ فِي الْمُشْرِكِينَ الْقِتَالُ أَوْ الْإِسْلَامُ، وَالْوَاجِبُ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ الْقِتَالُ أَوْ الْإِسْلَامُ أَوْ الْجِزْيَةُ (تفسیر الرازی، جلد 16، صفحہ 25)۔ مگر اس دوسری صورت پر بھی وہ آمادہ نہیں ہوئے ۔ اب چوں کہ انھیں اختیار کا حق صرف پہلی صورت کے بارے میں ہے۔ اور جہاں تک دوسری صورت کا تعلق ہے ۔ وہ لازماً مطلوب ہے اس لیے حکم دیا گیا کہ ان سے جنگ کر کے انھیں اس پر مجبور کرو۔ پہلے فقرے میں جس ایمان اور تحریم ما حرم اللہ کا ذکر ہے ، اس سے بعض لوگوں نے موسوی شریعت پر ان کے ایمان و عمل کا فقدان مراد لیا ہے اور بعض نے آخری رسول کی شریعت پر ۔ مگر ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر وہ اپنے دین پر واقعی ایمان رکھنے والے ہوتے تو ان کا ایمان لازماً انھیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان تک پہنچاتا ۔ کیوں کہ پچھلے تمام انبیاء نے آپ کی بشارت دی اور اپنی امتوں کو آپ کے اتباع کا حکم دیا۔ لَوْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ بِمَا أُيْدِيهِمْ إِيمَانًا صَحِيحًا لَقَادَهُمْ ذَلِكَ إِلَى الْإِيمَانِ بِمُحَمَّدٍ، صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ، لِأَنَّ جَمِيعَ الْأَنْبِيَاءِ الْأَقْدَمِينَ بَشَّرُوا بِهِ، وَأَمِرُوا بِاتِّبَاعِهِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 132)۔ تفسیروں میں يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ کے بارے میں یہ رائے بھی منقول ہوئی ہے : وَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَعْنَاهُ وَلَا يُطِيعُونَ طَاعَةَ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَكُلُّ مَنْ كَانَ فِي سُلْطَانٍ مَلِكٍ فَهُوَ عَلَى دِينِهِ وَقَدْ دَانَ لَهُ وَخَضَعَ (البحر المحیط فی التفسیر، جلد 5، صفحہ 400)۔ یعنی، ابو عبیدہ کا قول ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کی اطاعت قبول نہیں کرتے ۔ اور جو بھی کسی بادشاہ کے زیر اقتدار ہو، تو وہ اس کے دین میں ہے اور اس کے متعلق کہا جائے گا کہ دَانَ لَه۔ اسی تاویل کو ابن جریر طبری نے اختیار کیا ہے۔ لکھتے ہیں: وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ . يقول: ولا يُطيعون الله طاعة الحق. یعنی: أنهم لا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader