Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

رہنمائی اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ وہ اس کو تمام دین پر غالب کردے اگر چہ شرک کرنے والوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ 4۔ وَقَاتِلُوْهُمْ حَتَّى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُونَ الدِّيْنُ كُلُّه لِلَّهِ (8:39)۔ یعنی، اور تم ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین بالکل اللہ کے لیے ہو جائے۔ 5۔ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ۔ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّاباً (3-1: 110)۔ یعنی، جب اللہ کی نصرت آگئی اور فتح نصیب ہو چکی اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں تو اپنے رب کی حمد وثنا اور اس کی تسبیح کرو اور اس سے درگزر کی درخواست کرو وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ ان سب آیات میں دین سے پورا نظام زندگی اپنے تمام اعتقادی، نظری، اخلاقی اور عملی پہلوؤں سمیت مراد ہے۔ پہلی دو آیتوں میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کے لیے صحیح نظام زندگی صرف وہ ہے جو خود اللہ ہی کی اطاعت و بندگی (اسلام) پر مبنی ہو۔ اس کے سوا کوئی دوسرا نظام جس کی بنیاد کسی دوسرے مفروضہ اقتدار کی اطاعت پر ہو مالِک کائنات کے ہاں ہرگز مقبول نہیں ہے اور فطرتاً نہیں ہوسکتا، اس لیے کہ انسان جس کا مخلوق، مملوک اور پروردہ ہے اور جس کے ملک میں رعیت کی حیثیت سے رہتا ہے وہ تو کبھی یہ نہیں مان سکتا کہ انسان خود اس کے سوا کسی دوسرے اقتدار کی بندگی واطاعت میں زندگی گزارے اور کسی دوسرے کی ہدایات پر چلنے کا حق رکھتا ہے۔ تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس صحیح و برحق نظام زندگی ، یعنی اسلام کے ساتھ بھیجا ہے اور اس کے مشن کی غایت یہ ہے کہ اس نظام کو تمام دوسرے نظاموں پر غالب کر کے رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page