Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

چوتھی آیت میں دینِ اسلام کے پیروؤں کو حکم دیا گیا ہے کہ دنیا سے لڑو اور اس وقت تک دم نہ لو جب تک فتنہ یعنی ان نظامات کا وجود دنیا سے مٹ نہ جائے جن کی بنیاد خدا سے بغاوت پر قائم ہے اور پورا نظامِ اطاعت و بندگی اللہ کے لیے خالص نہ ہو جائے۔ " پانچویں آیت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس موقع پر خطاب کیا گیا ہے جبکہ 23 سال کی مسلسل جدوجہد سے عرب میں انقلاب کی تکمیل ہو چکی تھی، اسلام اپنی پوری تفصیلی صورت میں ایک اعتقادی و فکری، اخلاقی تعلیمی ، تمدنی و معاشرتی اور معاشی و سیاسی نظام کی حیثیت سے عملاً قائم ہو گیا تھا اور عرب کے مختلف گوشوں سے وفد پر وفد آ کر اس نظام کے دائرے میں داخل ہونے لگے تھے، اس طرح جب وہ کامِ تکمیل کو پہنچ گیا جس پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مامور کیا گیا تھا تو آپ سے ارشاد ہوتا ہے کہ اس کارنامے کو اپنا کارنامہ سمجھ کر کہیں فخر نہ کرنے لگنا، نقص سے پاک بے عیب ذات اور کامل ذات صرف تمہارے رب ہی کی ہے۔ لہذا اس کارِ عظیم کی انجام دہی پر اس کی تسبیح اور حمد و ثنا کرو اور اس ذات سے درخواست کرو کہ مالک اس 23 سال کے زمانہ خدمت میں اپنے فرائض ادا کرنے میں جو خامیاں اور کوتاہیاں مجھ سے سرزد ہو گئی ہوں انھیں معاف فرما دے۔" (صفحہ 95-94) اوپر کے اقتباس میں اگر یہ بات کہی گئی ہوتی تو ہمیں اس سے اختلاف نہیں تھا کہ دین، اپنی فہرست احکام کے لحاظ سے ، ان ساری چیزوں کا نام ہے جو زندگی کے مختلف انفرادی واجتماعی معاملات کے لیے رسول نے اپنے پورے دور رسالت میں بتائے ہیں۔ اور اس لحاظ سے دین کا لفظ سارے احکامِ اسلامی کا عنوان ہے۔ یہ ایک تسلیم شدہ بات ہے جس سے اختلاف کا کوئی سوال نہیں (حوالہ کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر خازن، جلد 1، صفحہ 278)۔ مگر یہاں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے۔ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ دین اسٹیٹ کا ایک مکمل نظام ہے۔ اور اسی حیثیت سے وہ ہم سے مطلوب ہے۔ رسول اسی لیے آتا ہے اور اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page