Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

مشن کی غایت یہی ہے کہ اس پورے نظام کو دوسرے تمام نظاموں پر غالب کردے۔ یہی وہ انقلابی کام ہے جو پیغمبر نے اپنے دور رسالت میں انجام دیا اور یہی وہ انقلابی کام ہے جواب ہمیں ساری دنیا میں انجام دینا ہے۔ دین یا دینی مشن کے اسی تصور پر ہم کو اعتراض ہے۔ دوسرے لفظوں میں اسٹیٹ یا نظام قائم کرنے کے پہلو کو اصل دعوت نبوت کے طور پر پیش کرنا اور یہ کہنا کہ انبیاء اول روز سے اسی دعوے کے ساتھ اپنا کام شروع کرتے تھے، صحیح نہیں۔ زیر بحث کتاب پر ہماری پوری تنقید کا خلاصہ یہی ہے کہ جو چیزیں بعد از ایمان مختلف پہلوؤں سے دین میں شامل ہوتی ہیں ان کو اس کتاب میں اصل دعوت رسالت کی حیثیت سے پیش کر دیا گیا ہے۔ اور اسی کے متعلق ہمارا کہنا ہے کہ یہ کسی آیت سے ثابت نہیں ہوتا۔ پہلی دونوں آیتیں سورہ آل عمران کی ہیں اور دونوں دراصل یہ بتانے کے لیے آئی ہیں کہ اب قیامت تک کے لیے خدا کے یہاں مقبول اور ذریعہ نجات دین صرف ”اسلام“ ہے۔ چنانچہ پہلے فقرے کے فوراً بعد ارشاد ہوتا ہے: وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْياً بَيْنَهُمْ وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللهِ فَإِنَّ اللهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (3:19)۔ یعنی، اور اہل کتاب نے (دین اسلام سے) جو اختلاف کیا تو ایسی حالت کے بعد کہ ان کو علم پہنچ چکا تھا۔ محض ایک دوسرے سے بڑھنے کے سبب سے۔ یعنی وہ دین اسلام کی آخری مقبول اور مستند حیثیت پر جو اعتراض کر رہے ہیں وہ محض ان کی سرکشی ہے ورنہ پچھلے انبیاء کی معرفت جو کچھ انھیں بتایا جا چکا ہے اس کی بنا پر وہ اس کی حیثیت کو خوب جانتے ہیں۔ آیت کا یہی مفہوم مفسرین نے لیا ہے۔ میں دو حوالے نقل کرتا ہوں : ”إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الإِسْلَامُ“، يعني أَنَّ الدِّينَ المَرْضِيَّ عِندَ اللهِ هو الإسلام، كما قال تعالى: وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلَامَ دِينًا، وفيه رد على

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page