Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 249

By Maulana Wahiduddin Khan

اليهودُ والنّصاریٰ، وذلك لَمَّا ادّعتِ اليهودُ أنّه لا دينَ أفضلُ من اليهوديّةِ، وادّعتِ النّصاریٰ أنّه‌ لا دينَ أفضلُ من النّصرانيّةِ، رَدّ اللهُ عليهم ذلك، فقال: إنّ الدّينَ عندَ اللهِ الإسلامُ (تفسير الخازن، جلد 1، صفحہ 234)۔ یعنی، ’’إنّ الدّينَ عندَ اللهِ الإسلامُ‘‘ یعنی اللہ کا پسندیدہ دین صرف اسلام ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے وَرَضِیتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا اور اس میں یہود و نصاریٰ کی تردید ہے، یہودیوں کا کہنا تھا کہ یہودیت سب سے افضل دین ہے، نصاریٰ کا کہنا تھا کہ نصرانیت سب سے افضل دین ہے، اللہ تعالیٰ نے کہا: نہیں۔ اللہ کے نزدیک تو دین صرف اسلام ہے۔ 2۔ ”اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللهِ الْاِسْلَامُ‘‘ أي: لا دِينَ مَرْضِيّ عِنْدَ اللهِ تعالیٰ سوى الإسلام (روح المعانی، جلد 2، صفحہ 103)۔ یعنی، ’’اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللهِ الْاِسْلَامُ‘‘ کا مطلب ہے، اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین اسلام کے سوا کوئی اور نہیں۔ اسی طرح دوسری آیت کا اصل موضوع بھی یہی ہے، کہ خدا کے یہاں مقبول دین کون سا ہے۔ چنانچہ اس فقرے کے فوراً بعد مسلسل کئی آیتوں میں یہی بات بیان کی گئی ہے کہ اسلام کو چھوڑ کر جو شخص کوئی دوسرا دین اختیار کرے گا وہ خدا کی نگاہ میں ’’ کافر ‘‘ قرار پائے گا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوگا۔ (آل عمران، 91-85:3) آیت کا یہی مفہوم مفسرین نے لیا ہے۔ میں دو حوالے نقل کرتا ہوں: ’’وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ‘‘، يعني أَنَّ الدِّينَ المقبولَ عندَ اللهِ هو دينُ الإسلام، وأنَّ كُلَّ دينِ سواه غيرُ مقبول عِندهُ (تفسیر الخازن، جلد 1، صفحہ 266)۔ یعنی، مقبول دین اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہے اس کے سوا کوئی دین اس کے یہاں مقبول نہیں ہوگا۔ ’’وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ‘‘بَيَّنَ تعالى أَنَّ مَن تَحَرَّی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page