Urdu book · تعبیر کی غلطی

دوسرا مرحلہ

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی اپنے پیچھے چھوڑ دیا ہے، حد یہ ہے کہ آپ نے تحریف دین تک کا الزام عائد کر دیا ہے۔ 3۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ یہ جارحانہ انداز بدل دیں ورنہ اس تحریر کا حشر وہی ہوگا، جو مولانا امین احسن کی تحریروں کا ہوا۔ 4۔ ایک بزرگ جو مجلس نمایندگان کے رکن بھی ہیں، انہوں نے یہ تحریر پڑھنے کے بعد اس پر کافی دیر تک اظہار خیال کیا۔ جس کا حصہ یہ ہے کہ: ”مجھے اس سے زیادہ اختلاف نہیں، مگر پورا اطمینان بھی نہیں۔ اصل میں اس طرح کے مسائل پر میں نے زیادہ غور و فکر نہیں کیا۔ اس لیے اس کی بابت کوئی قطعی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔“ ”نتائج“ والے باب سے انہوں نے پورا اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر نظریات کے بارے میں میرا تجزیہ صحیح ہے، تو لازماً یہی نتائج برآمد ہوں گے ویسے جماعت کے اندر عملاً یہ تمام نتائج ظاہر ہو چکے ہیں، مگر دوسرے لوگ اس کے دوسرے اسباب بتاتے ہیں۔ یہ گفتگو 28 اکتوبر 61ء کو ہوئی تھی، اس کے تین مہینے بعد 6 فروری 62ء کو پھر ان سے ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اب ان میں کافی تبدیلی آچکی ہے۔ انہوں نے فرمایا ”میں شرح صدر کے ساتھ اس کو غلط سمجھتا ہوں“۔ مگر پوچھنے کے باوجود اس شرح صدر کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی، پانچ مہینے کے بعد 5 جولائی کو ان سے تیسری گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا ”میں اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ اس پر کوئی تحقیقی تبصرہ کر سکوں، مگر میرا خیال اس کو پڑھنے کے بعد بھی یہی ہے کہ مولانا مودودی کی تشریح بالکل صحیح ہے، ان کی تحریروں میں کوئی پیرا گراف ایسا ہو سکتا ہے جس سے مجھے اختلاف ہو، مگر بنیادی طور پر میں ان کی تشریح کو صحیح اور آپ کی تشریح کو غلط سمجھتا ہوں۔“ اس کے سوا انہوں نے کوئی دلیل بیان نہیں کی اور نہ میرے کسی اعتراض کا تجزیہ کر کے بتایا کہ وہ کیوں میری بات کو غلط سمجھتے ہیں۔ جب میں نے بار بار دلیل کے لیے اصرار کیا تو جھنجھلا کر فرمایا: ”آپ مجھے جاہل سمجھ لیجیے۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page