Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

بعد مَبْعَثِهِ صلّی الله تعالی علیہ وسلّم غيْرَ شريعتِہٖ، فهو غيرُ مقبولٍ منہُ (تفسیر روح المعانی، جلد، 2، صفحہ 207)۔ یعنی، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ آخری رسول کی بعثت کے بعد جو شخص آپ کی شریعت کے علاوہ کسی اور شریعت کو اختیار کرے گا تو وہ خدا کے یہاں قبول نہیں کی جائے گی۔ گویا ان دونوں آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے، وہ اصلا یہ نہیں ہے کہ انسان کے مختلف شعبہ ہائے حیات کے لیے صحیح نظام وہی ہے، جو خدا کے اقتدار کے تحت منظم کیا گیا ہو۔ بلکہ یہاں دیگر مذاہب کے اس دعویٰ کی تردید ہے کہ وہ خدا کے یہاں نجات کا ذریعہ ہیں، اور اعلان کیا گیا ہے کہ اب ہمیشہ کے لیے ذریعہ نجات صرف وہ دین ہے، جو آخری رسول کی معرفت بھیجا گیا ہے۔ تیسری آیت کے سلسلے میں دوسرے مقام پر ہم نے مفصل بحث کی ہے ۔ یہاں صرف ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ جس سے اندازہ ہوگا کہ دین کا زیر بحث مخصوص تصور اس سے اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ اس آیت کے سلسلے میں مصنف کی تفصیلی شرح جو دوسرے مقام پر نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں وہ پورے نظام دین کے نفاذ کو جس طرح اخذ کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک لِیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کا مطلب یہ ہے کہ اطاعت کی تمام اقسام پر اس کو غالب کردے۔ یعنی اپنے نفس کی اطاعت، رسم و رواج کی اطاعت، قانون کی اطاعت، حکومت کی اطاعت— ان ساری اطاعتوں کو ختم کر کے ان کی جگہ خدائی اطاعت قائم کردے۔ لیکن غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس قسم کی ہمہ گیر اطاعت کو خارجی غلبہ سے کسی کے اوپر طاری نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً نفس کی اطاعت، کیا فوج اور پولیس کے ذریعہ کسی سے چھڑائی جاسکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ” غلبہ ‘‘ کا موضوع صرف کچھ ظاہری اطاعتیں بن سکتی ہیں۔ اطاعت کی ساری اجناس غلبہ کا موضوع نہیں بن سکتیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page