دین
Urdu book, p. 251
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح اظہار دین کا واقعہ جس طرح پیش آیا اس سے بھی اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اس کا تعلق دو گروہوں سے تھا۔ ایک، مشرکین عرب جن سے اما السیف اما الاسلام کا معاملہ کیا گیا، یعنی یا جنگ کرو یا اسلام لاؤ، اور دوسرے اہل کتاب جن سے جزیہ لے کر انہیں ان کے مذہب پر چھوڑ دیا۔ گویا ایک گروہ کو مذہبی طور پر مغلوب کیا گیا اور دوسرے کو سیاسی طور پر۔ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے کسی گروہ کے بارے میں بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ان پر دین اس طرح قائم ہوا کہ اندر سے باہر تک ہر لحاظ سے دین کے تمام تقاضے اور اس کا سارا مطلوب ان کے اوپر نافذ کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ مفسرین نے یہاں عمومی غلبہ کا مفہوم مراد لیا ہے، خواہ دیگر مذاہب پر یا دیگر مذاہب کے افراد پر۔ "لِيُظْهِرَهُ" ليظهر الرسول عليه السلام عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ على أهل الأديان كلهم أو ليظهر دين الحق على كل دين (تفسیر الکشاف، جلد 2، صفحہ 265)۔ یعنی، رسول کو تمام مذاہب پر غالب کرے یا یہ کہ دین حق کو ہر دین پر غالب کرے۔ "لِيُظْهِرَهُ" ليعليه "عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ" على أهل الأديان كلهم أو ليظهر دين الحق علی كل دین (مدارک التنزيل للنسفی، جلد 1، صفحه (676)۔ یعنی، رسول کو تمام اہل مذاہب پر غالب کرے یا یہ کہ دین حق کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ چوتھی آیت کے متعلق تفصیلی گفتگو آگے آ رہی ہے جس سے معلوم ہوگا کہ زیر بحث تصور کو اس آیت میں صحیح طور پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کی تشریح میں مصنف کے یہاں تضاد پیدا ہو گیا اور ان کو دو جگہ دو باتیں کہنی پڑیں ۔ زیر بحث کتاب میں چوں کہ مصنف کو دین کا وسیع اور جامع مفہوم ثابت کرنا تھا۔ اس لیے یہاں انھوں نے دعوی کر دیا کہ اس آیت میں ” دین سے پورا نظام زندگی اپنے تمام اعتقادی، نظری، اخلاقی اور عملی پہلوؤں سمیت مراد ہے ۔ “ (صفحہ (94) مگر دوسری جگہ اس آیت سے مشن کا انقلابی مفہوم نکالتے ہوئے انھیں یاد آیا کہ اس میں جس دین کا ذکر ہے ، اس کو وجود میں لانے کے لیے ” قتال “ کا حکم دیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader