Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

گیا ہے۔ یعنی لڑ کر لوگوں کو دین پر لے آؤ۔ اس لیے اس آیت کو انقلابی مشن کا ماخذ بنانے کا مطلب یہ ہوگا کہ دین کے اعتقادی اور نظریاتی پہلوؤں کو بھی لڑا کر لوگوں سے منوایا جائے۔ حالاں کہ ان چیزوں کے متعلق معلوم ہے کہ ہم کو نصیحت اور فہمایش کا حق ہے، نہ کہ جنگ کا۔ اس لیے دوسری جگہ دین ”محدود“ مفہوم کا حامل ہو گیا۔ چنانچہ تفہیم القرآن میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے اپنا موقف بدل دیا اور وَيَكُونُ الدِّينُ لِلّٰهِ کا مطلب یہ بیان کیا کہ لوگ خواہ ایمان لائیں یا نہ لائیں مگر زمین پر ملکی قانون خدا ہی کا رہے اور اس کے لیے جنگ کی جائے۔ (تفہیم القرآن، البقرۃ، آیت 193، حاشیہ 205) اسی طرح آخری حوالہ (سورہ نصر) پر جو لمبی تقریر کی گئی ہے، اس کا سورہ کے اصل الفاظ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ سے وہ غلبہ مراد ہے جو دشمنان اسلام پر خدا کے رسول کو ہوا۔ اور يَدْخُلُونَ فِي دِيْنِ اللهِ اَفْوَاجاً میں اس واقعہ کا ذکر ہے کہ غلبہ حاصل ہونے کے بعد لوگوں نے کثرت سے اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ فتح سے پہلے جب آخری رسول اور قریش کے درمیان شدید کشمکش جاری تھی۔ عرب کے لوگ کہا کرتے تھے کہ اس کشمکش میں جو جیتے گا وہی حق پر ہے۔ چنانچہ جب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کو زیر کر کے ان کے اوپر غالب ہو گئے تو وہاں کے لوگ جوق در جوق اسلام لانے لگے۔ اور اس طرح اسلام سیاسی اور عددی دونوں حیثیتوں سے طاقتور ہو گیا۔ دوسرے لفظوں میں اسلام اس حیثیت میں ہو گیا کہ تبلیغ دین کا وہ کام آئندہ مسلسل جاری رہ سکے۔ جس کو ختم رسالت کے بعد جاری رکھنا اللہ تعالیٰ کو لازمی طور پر مطلوب تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خود صاحب وحی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور آپ کے دوسرے قریبی ساتھیوں نے جب یہ سورہ سنی تو انھوں نے سمجھا کہ اب آپ کا وقت قریب آ گیا ہے۔ یہاں میں تفسیروں کے چند اقتباس نقل کرتا ہوں جس سے اس تشریح کی وضاحت ہوتی ہے: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} النَّصْرُ: الْإِغَاثَةُ وَالْإِظْهَارُ عَلَى الْعَدُوِّ، وَالْفَتْحُ: فَتْحُ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page