Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

اِلْبِلَادِ، وَالمَعْنَى: نَصْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعَرَبِ أَوْ عَلَى قُرَيْشٍ وَفَتْحُ مَكَّةَ... {وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ }... أَيْ: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ إِيَّاكَ عَلَى مَنْ نَاوَاكَ وَفَتْحُ البِلَادِ وَرَأَيْتَ أَهْلَ اليَمَنِ يَدْخُلُونَ فِي مِلَّةِ الْإِسْلَامِ جَمَاعَاتٍ كَثِيرَةً بَعْدَ مَا كَانُوا يَدْخُلُونَ فِيهِ وَاحِدًا وَاحِدًا وَاثْنَيْنِ اثْنَيْنِ (مدارک التنزیل للنسفی، جلد، 3، صفحہ 689-688)۔ یعنی، نصر کا مطلب ہے دشمن کے مقابلے میں مدد دینا اور فتح کا مطلب شہروں کو فتح کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل عرب یا قريش کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کی مدد ملی اور آپ نے مکہ فتح کیا۔ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے دشمنوں کے مقابلے میں تم کو خدا کی مدد پہنچی اور ملک فتح ہو گیا اور تم نے اہل یمن کو دیکھا کہ وہ دین اسلام میں بڑی بڑی جماعتوں کے ساتھ داخل ہو رہے ہیں۔ جب کہ وہ پہلے ایک ایک دو دو کر کے اس میں داخل ہوتے تھے۔ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَيْ ملة الإسلام التي لا دين يضاف إليه تعالى غيرها {أَفْوَاجاً} يدخلون أى يدخلون فيه جماعات كثيفة كأهل مكة والطائف واليمن وهوازن وسائر قبائل العرب وكانوا قبل ذلك يدخلون فيه واحداً واحداً واثنين اثنين ( تفسیر ابی السعود ، جلد 9، صفحہ (208) ۔ یعنی، يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجاً کا مطلب یہ ہے کہ دین اسلام میں کثیر تعداد میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جیسے اہل مکہ، طائف، یمن، ہوازن اور تمام قبائل عرب، جو کہ اس سے پہلے ایک ایک دو دو کی تعداد میں اسلام لاتے تھے۔ والمُراد بدخولِ النَّاسِ في دينه تعالى أفواجاً، أى جماعات كثيرة، إسلامُهم مِنْ غير قتالٍ، وقد كانَ ذلكَ بينَ فتحِ مَكَّةَ ومَوتِهِ عليهِ الصَّلاةُ والسَّلامُ، وكانوا قبلَ الفتح يدخلونَ فيهِ واحداً واحداً واثنينِ اثنينَ.“ ( تفسیر روح المعانی، جلد 15،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page