Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 254

By Maulana Wahiduddin Khan

صفحہ 492)۔ یعنی، اس سے مراد بغیر لڑائی کے لوگوں کا کثیر تعداد میں اسلام قبول کرنا ہے اور یہ واقعہ فتح مکہ اور آپ کی وفات کے درمیان ہوا۔ فتح سے پہلے لوگ ایک ایک دو دو کر کے اسلام قبول کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ اس سورہ میں جس چیز کا ذکر ہے، وہ صرف محبت فتح اور دخول فی دین اللہ ہے۔ یعنی خدا کی مدد سے فتح پانا اور لوگوں کا کثرت سے اسلام قبول کرنا۔ اس فتح و نصرت کا پس منظر کیا تھا اس کا یہاں کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس لیے ان آیات سے یہ مفہوم نکالنا کہ اس سے پہلے عرب میں دعوت رسالت کا جو کام ہوا وہ ایک مخصوص اسٹیٹ کا نظام قائم کرنے کی جد و جہد تھی اور فتح و نصرت اسی انقلابی جد و جہد کی تکمیل، یہ ایک مزید بات ہے جس کو الگ سے لا کر یہاں چسپاں کیا گیا ہے۔ خود ان آیات میں دعوت رسالت کی یہ نوعیت بیان نہیں کی گئی ہے۔ نہ وہ دوسری جگہ کہیں صراحتاً مذکور ہے جس کی بنیاد پر یہاں اس کو قیاس کیا جاسکے۔ ایسی حالت میں اس استدلال کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص دعوت رسالت کی نوعیت یہ فرض کرلے کہ وہ عرب قوم کو مذہبی پیشواؤں اور جاگیر داروں کے اقتدار سے نکالنے کی جد و جہد تھی۔ ایسا شخص اپنے اس مخصوص نقطہ نظر کو ان آیات کے ساتھ جوڑ کر کہہ سکتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب کی قومی جد و جہد جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں شروع ہوئی تھی، وہ فتح مکہ کے دن اپنی کامیابی تک پہنچ گئی اور اس کے بعد ملک کے وہ تمام لوگ جو سابق نظام کے تحت دبے ہوئے تھے، وہ جوق در جوق آپ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے لگے۔ اگر یہ دوسرا استدلال صحیح نہیں ہے، تو یقیناً پہلا استدلال بھی صحیح نہیں ہوسکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page