Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 255

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی مشن کی تعبیر پچھلی نصف صدی کے دوران میں جن سماجی نظریات کو قبولیت اور برتری کا مقام حاصل ہوا ہے وہ وہی نظریات ہیں، جو زندگی کے مادی نظام کو درست کرنے اور سیاسی انقلاب برپا کرنے کے لیے اٹھے ہیں۔ حتیٰ کہ اب وہی تحریک زندہ تحریک سمجھی جاتی ہے جو اس نہج پر کام کر رہی ہو۔ اس سے متاثر ہو کر قدیم مکاتبِ خیال کے لوگ بھی اپنے نظریات کی تشریح اسی مخصوص انداز میں کرنے لگے ہیں۔ ہندوازم اور عیسائیت کا جدید لٹریچر اس کی نمایاں مثال ہے۔ یہ لے اتنی بڑھی ہے کہ اب مذہب تعمیرِ آخرت کے بجائے تعمیرِ دنیا کا عنوان بن گیا ہے۔ اگر آپ اس چھائی ہوئی فضا سے متاثر ہوں، اور اس کے بعد اسلام کا مطالعہ کریں تو یہ عین ممکن ہے کہ اسلامی تحریک کا نقشہ آپ کے ذہن میں ٹھیک اسی طرز پر بنا شروع ہو جائے، جو باہر کی دنیا میں آپ دیکھ رہے ہیں۔ آپ کا ذہن جو نسلی تعلق کی بنا پر پہلے سے اسلام کے ساتھ ایک طرح کی عقیدت رکھتا تھا، قدرتی طور پر وہ اسلام کو فکر کی اس سطح پر دیکھنا چاہے گا، جو لوگوں کے نزدیک بلند اور مستند سطح ہے۔ اور جس کی اس حیثیت کو آپ بھی غیر شعوری طور پر تسلیم کر رہے ہیں۔ اس کے بعد جب آپ دیکھیں گے کہ اسلام میں زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق احکام ہیں۔ اسلام کی تاریخ میں بر سر اقتدار طبقہ سے لڑائیاں بھی ہوئی ہیں، اسلام نے سیاسی قوت بھی حاصل کی ہے— تو ان سب کا مجموعہ آپ کے ذہنی سانچے میں اسلام کی اس تعبیر کی صورت میں ڈھل جائے گا کہ : ” اسلام ایک مکمل نظامِ زندگی ہے اور انبیاء علیہم السلام اس لیے آئے تھے کہ حکومت الہیہ قائم کر کے اس صحیح ترین نظام کو عملاً زمین پر نافذ کریں۔“ اس تعبیر میں بظاہر کوئی ایک لفظ بھی غلط نہیں ہے۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ اسلام کا اپنا ایک نظام زندگی ہے۔ نبی نے حکومت بھی قائم کی ہے، اس نے خدا کے دیے ہوئے قوانین کو زمین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page