Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 256

By Maulana Wahiduddin Khan

پر نافذ بھی کیا ہے۔ مگر ان اجزاء کو جوڑ کر جو مجموعہ تیار کیا گیا ہے، وہ حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی ہے، جیسے مختلف جانوروں کی ہڈیاں ملا کر ایک نیا ڈھانچہ بنانا، اور دعویٰ کرنا کہ یہ ایک تاریخی جانور ہے، جواب سے پانچ کروڑ سال پہلے زمین پر چلتا پھرتا تھا۔ اسلام کے اس تصور کے مطابق دنیا میں اہل ایمان کا جو ”نصب العین“ قرار پاتا ہے، اس کو جماعت اسلامی کی ابتدائی تاسیس کے وقت مندرجہ ذیل فقرے میں بیان کیا گیا تھا: ” جماعت اسلامی کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود دنیا میں حکومت الہیہ کا قیام اور آخرت میں رضائے الہی کا حصول ہے“۔ دستور میں نصب العین کے اس فقرے کی تشریح کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ : ” اس سے مراد اللہ کی شرعی حکومت کا قیام ہے جس کا تعلق انسان کی زندگی کے اس حصے سے ہے جس میں اللہ نے انسان کو اختیار عطا کیا ہے“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عقائد، اخلاق، معاشرت، تمدن اور سیاست وغیرہ سے متعلق جو مفصل قانون خدا نے اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجا ہے، اس کو تسلیم کیا جائے، جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ دراصل خدا کے مقابلے میں بغادت کا ارتکاب کرتے ہیں اور : ”مومن کا کام اس بغاوت کو دنیا سے مٹانا اور خدا کی زمین پر خدا کے سوا ہر ایک کی خداوندی ختم کر دینا ہے۔ مومن کی زندگی کا مشن یہ ہے کہ جس طرح خدا کا قانونِ تکوینی تمام کائنات میں نافذ ہے، اسی طرح خدا کا قانونِ شرعی بھی عالم انسانی میں نافذ ہو۔ مومن کی تمام مساعی کا ہدف مقصود یہ ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو خدا کے سوا ہر ایک کی بندگی سے نکالے اور صرف خدا کا بندہ بنائے۔ یہ کام فی الاصل تو نصیحت، فہمائش، ترغیب اور تبلیغ ہی سے کرنے کا ہے، لیکن جو لوگ ملک خدا کے ناجائز مالک بن بیٹھے ہیں اور خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا لیتے ہیں، وہ عموماً اپنی خداوندی سے محض نصیحتوں کی بنا پر دست بردار نہیں ہو جایا کرتے۔ اس لیے مومن کو مجبوراً

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page