دین
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ کرنی پڑتی ہے، تا کہ حکومت الہیہ کے قیام میں جو چیز سدراہ ہو، اسے راستے سے ہٹا دے۔“ ملک کی تقسیم کے بعد جب ہندوستان کی ملحد جماعت قائم ہوئی تو یہاں کے رہنماؤں نے نصب العین کے فقرے میں کچھ تبدیلی کردی اور اس کو مندرجہ ذیل الفاظ میں ظاہر کیا۔ ”جماعت اسلامی کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود دنیا میں اقامت دین (اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنا) اور آخرت میں رضائے الہی کا حصول ہے۔“ اس تبدیلی کا مطلب نصب العین کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ یہ محض ایک لفظی تبدیلی تھی۔ چنانچہ دستور میں تبدیل شدہ فقرے کے نیچے حسب ذیل نوٹ درج کیا گیا: ”دستور جماعت میں اس سے پہلے اقامت دین کے بجائے حکومت الہیہ کا لفظ تھا جو دراصل اسی مفہوم میں استعمال کیا گیا تھا جو اقامت دین کا ہے، لیکن چوں کہ حکومت الہیہ کے لفظ کے سمجھنے میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور کرائی جاتی ہیں اس لیے ضرورت سمجھی گئی کہ اپنے نصب العین کے اظہار کے لیے ایسا لفظ اختیار کیا جائے جو قرآن کا ایک اصطلاحی لفظ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے تمام مفہوموں پر حاوی بھی ہو اور کسی غلط فہمی کا باعث بھی نہ ہو۔“ اب یہی نصب العین جماعت اسلامی ہند کے موجودہ دستور میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ”جماعت اسلامی ہند کا نصب العین اقامت دین ہے۔ جس کا حقیقی محرک صرف رضائے الہی اور فلاح آخرت کا حصول ہے..... یہ دین انسان کے ظاہر و باطن، اور اس کی زندگی کے تمام انفرادی واجتماعی گوشوں کو محیط ہے۔ عقائد، عبادات، اور اخلاق سے لے کر معیشت، معاشرت اور سیاست تک انسانی زندگی کا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں ہے جو اس کے دائرے سے خارج ہو۔ یہ دین جس طرح رضائے الہی اور فلاح آخرت کا ضامن ہے، اسی طرح دنیوی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader